کیا چندرا بابو نائیڈو ان کا قائد اپوزیشن کا موقف برقرار رکھیں گے؟

   

حیدرآباد ۔ 26 اکٹوبر (ایجنسیز) آندھراپردیش کے سابق چیف منسٹر اور تلگودیشم پارٹی کے صدر این چندرا بابو نائیڈو اب 23 ارکان اسمبلی کے ساتھ لیڈر آف اپوزیشن (LOP) ہیں۔ انہیں بحیثیت قائد اپوزیشن ایک چیمبر دیا گیا اور ٹی ڈی لیجسلیچر پارٹی (ٹی ڈی ایل پی) کو بھی ایک اور چیمبر دیا گیا ہے۔ نائیڈو کو بحیثیت قائد اپوزیشن ایک کابینی وزیر کا درجہ بھی حاصل ہے اور ان کے پی ایس کو ایک تیسرا چیمبر دیا گیا جسے تلگودیشم پارٹی کے دورحکومت میں سابق ڈپٹی اسپیکر منڈلی بدھا پرساد استعمال کرتے تھے۔ چیف منسٹر جگن موہن ریڈی نے گذشتہ بجٹ سیشن میں کہا تھا کہ اگر حکمران پارٹی تلگودیشم کے ارکان اسمبلی کو انحراف کی طرف مائل کرتی تو نائیڈو قائد اپوزیشن کا موقف کھو دیتے تھے۔ جگن موہن ریڈی نے ایوان اسمبلی میں تلگودیشم پارٹی سربراہ کو بتایا تھا کہ ’’آپ آپ کے قائد اپوزیشن کے موقف سے محروم ہوجائیں گے۔ آپ کے ایم ایل ایز ہمارے ساتھ رابطہ میں ہیں‘‘۔ اب گناوارم کے تلگودیشم رکن اسمبلی وی ومسی ریڈی نے وزراء کوڈی نانی اور پی نانی کے ہمراہ چیف منسٹر سے ملاقات کی اور یہ طئے ہوگیا کہ ومسی دیوالی کے بعد تلگودیشم پارٹی اور ایم ایل اے نشست سے بھی مستعفی ہوجائیں گے۔ اطلاعات کے مطابق ایک درجن سے زیادہ تلگودیشم کے ارکان اسمبلی ایسے ہیں جو حکمراں جماعت میں شامل ہونے کیلئے جگن موہن ریڈی کی منظوری کے منتظر ہیں۔ جگن موہن ریڈی نے جو ابتداء میں انحراف کی حوصلہ افزائی کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے، اب سمجھا جاتا ہیکہ انہوں نے ٹی ڈی پی کو خالی کردینے کیلئے ذہن بنا لیا ہے۔ چیف منسٹر اور ان کے پارٹی قائدین ہر مسئلہ پر چندرا بابو نائیڈو ان کے میڈیا کی مدد سے جس انداز سے سیاست کررہے ہیں اور اسے سیاسی رنگ دے رہے ہیں اس سے خوش نہیں ہیں۔ چیف منسٹر نے اب تلگودیشم کے کم از کم ایک درجن ارکان اسمبلی کے ان کی پارٹی سے استعفیٰ دیکر حکمران جماعت میں شامل ہونے کو قبول کرتے ہوئے مسٹر نائیڈو کو ریاست کی سیاست میں ان کا مقام دکھانے کا ذہن بنا لیا ہے۔ ان میں زیادہ تر ان کے متعلقہ حلقوں سے دوبارہ الیکشن میں مقابلہ کریں گے۔ ذرائع کے مطابق بالا کرشنا کے سواء کئی ارکان اسمبلی کی طرف سے اس سلسلہ میں مثبت اشارے ہیں۔