کیا چین نے لداخ میں ہندوستانی علاقہ پر قبضہ کیا ہے؟

,

   

راجناتھ سے راہول کا استفسار، وزیر دفاع کی ٹوئیٹر پر پیروڈی پر کانگریس لیڈر کا طنز، سرحد کے تنازعہ پر جواب دینے کا مطالبہ

نئی دہلی۔9 جون (سیاست ڈاٹ کام)کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے اس طنز کے بعد کہ سرحد کی صورتحال کی حقیقت ہر کوئی جانتا ہے، آج وزیر دفاع راجناتھ سنگھ سے استفسار کیا کہ آیا چین نے لداخ میں ہندوستانی علاقہ پر قبضہ کیا ہے۔ انہوں نے ٹوئیٹر پر پوچھا کہ جب وزیر دفاع ہاتھ کے نشان کے بارے میں تبصرہ سے فارغ ہوجائیں تب کیا وہ جواب دے سکتے ہیں کہ کیا چینیوں نے لداخ کے ہندوستانی علاقہ پر قبضہ کیا ہے ؟ راج ناتھ نے پیر کو ایک شعرکی پیروڈی کے ذریعہ راہول کو نشانہ بنایا تھا۔ انہوںنے مرزا غالب کے شعر کو استعمال اور اسے مختلف انداز میں پیش کیا ۔ راج ناتھ نے مہاراشٹرا کے بی جے پی ورکرس کی ورچول ریالی سے خطاب میں کہا تھا کہ مرزا غالب کا ہی شعر تھوڑا الگ انداز میں ہے۔ ’’ہاتھ میں درد ہو تو دوا کیجئے ، ہاتھ ہی جب درد ہو تو کیا کیجئے‘‘۔ ’ہاتھ‘ کانگریس پارٹی کا انتخابی نشان ہے۔ راہول اور راج ناتھ پیر کی شام سے اس مسئلہ پر ٹوئیٹر پر لفظی جنگ میں ملوث ہیں اور ایک دوسرے پر چبھتے حملے کرتے رہے ہیں۔ کانگریس لیڈر نے پیر کو مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ پر ان کے ریمارکس پرچوٹ کی تھی کہ ہندوستان اپنی سرحدوں کی حفاظت میں مضبوط موقف رکھتا ہے۔ راہول نے کہا تھا کہ سچائی کچھ اور معلوم ہوتی ہے کیونکہ ہر کوئی ملک کی سرحدوں کی صورتحال کی حقیقت جانتا ہے۔ راہول نے غالب کے ایک شعر کو مختلف انداز میں پیش کرتے ہوئے ہندی میں ٹوئیٹ کیا تھا کہ ہر کوئی سرحدوں کی حقیقت سے واقف ہے لیکن خوش فہمی بعض لوگوں کے دل کو بھلی معلوم ہوتی ہے۔ اس دوران کانگریس کے ترجمان اعلیٰ رندیپ سرجے والا نے بھی وزیر دفاع سے اس سوال کا جواب دینے کی خواہش کی کہ اپوزیشن کی پارٹی نشانوں کی تضحیک کرنا ہندوستان کا دفاع کرنا نہیں ہوتا ہے ۔

انہوں نے ٹوئیٹر پر سوال کیا کہ کیا راج ناتھ سنگھ کانگریس لیڈر راہول گاندھی کے سادہ سوال کا جواب دے پائیں گے ۔ ایک اور کانگریس لیڈر ششی تھرور نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ اس ’ہاتھ‘ سے ’کنول‘ بکھر نہ جائے کیونکہ ساری توجہ یہیں مرکوز ہے اور انہوں نے اپیل کی کہ ’ہاتھ‘ پر سے توجہ ہٹائیں اور سرحدوں کی حفاظت کریں ۔ (کنول بی جے پی کا انتخابی نشان ہے) ایک اور ٹوئیٹ میں تھرور نے سوال کیا کہ کیوں راج ناتھ پریشان ہے اور سرحدی تنازعہ کی یکسوئی سے قاصر ہیں۔ انہیں بتانا چاہئے کہ کیا چینی ملٹری لداخ میں گھس چکی ہے۔ ایک اور کانگریس لیڈر الکا لامبا نے بھی راجناتھ سے سوال کیا کہ شعروں کا سہارا لینے کے بجائے انہیں صاف سیدھا جواب دینا چاہئے کیونکہ قوم کو یہی مطلوب ہے۔ مشرقی لداخ میں سرحد پر ہندوستان اور چین کے درمیان تعطل دیکھا گیا ہے کیونکہ دونوں طرف فوجیں جمع ہوگئیں۔ ہندوستان نے کہا ہے کہ سرحدی تنازعہ کی بات چیت کے ذریعہ یکسوئی کی جائے گی ۔