نئی دہلی : ملک میں تیسری لہر کے بارے میں خدشات بڑھتے جارہے ہیں۔ بہت سے ماہرین کا دعویٰ ہے کہ تیسری لہر ستمبر یا اکتوبر میں آ سکتی ہے۔ اس کے پیش نظر ریاستوں نے اپنی سطح پر تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ خاص طور پر مہاراشٹرا میں بستروں اور آکسیجن ری فلنگ پلانٹس کی تعداد میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف کیرالا میں انفیکشن کے بڑھتے ہوئے معاملات کے پیش نظر ایک صحت کے عہدیدار نے لاک ڈاؤن لگانے کا مشورہ دیا ہے۔مرکزی حکومت کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ کیرالا میں انفیکشن کو روکنے کے لیے لاک ڈاؤن کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہے۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تین دن پہلے کیرالا میں ٹسٹ مثبت شرح 15 فیصد تھی جو اب بڑھ کر 19 فیصد ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے انفیکشن کے پھیلاؤ کی چین ٹوٹ جائے گی جیسا کہ دہلی میں ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کیرالا میں لاک ڈاؤن ہوتا ہے تو پندرہ دن کے اندر حالات بہتر ہو جائیں گے۔انہوں نے کہاکہ تہوار آرہے ہیں۔اس کے پیش نظر کنٹینمنٹ زون بنانے اور لاک ڈاؤن لگانے کا کام کیرالا میں سوچ سمجھ کر کرنا ہوگا۔ یہ تجویز ریاست کو بھیجی گئی ہے۔ واضح رہے کہ کیرالا کے وزیر اعلیٰ پنرائی وجین نے پیر سے ہفتہ کی رات 10 بجے سے صبح 6 بجے تک رات کے کرفیو کا اعلان کیا۔ مہاراشٹرا کے بارے میں بات کریں تو بی ایم سی کے ایڈیشنل میونسپل کمشنر سریش کاکانی نے کہا کہ تیسری لہر کے لیے 30000 بستر تیار کیے جا رہے ہیں۔