کیرالا میں گجرات ماڈل کا نفاذ مودی کا ’دن کا خواب‘ : کانگریس

   

بی جے پی پر تقسیم کی سیاست کرنے کا الزام، پی سی سی صدر سنی جوزف کا بیان

ترواننت پورم۔ 24 جنوری (یو این آئی) کیرالا ریاستی کانگریس کمیٹی (کے پی سی سی) کے صدر سنی جوزف نے ہفتہ کے روز وزیر اعظم نریندر مودی کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کیرالا میں گجرات ماڈل کی حکومت نافذ کرسکتی ہے ۔ انہوں نے اسے ریاست کی زمینی حقیقت سے دور دن کا خواب قرار دیا۔سنی جوزف نے ایک بیان میں کہا کہ گجرات میں بی جے پی کے طویل اقتدار کی وجوہات پر وزیر اعظم مودی کے تبصرے گمراہ کن ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ کیرالا کی سیاسی طور پر باشعور اور سیکولر عوام ایسے دعوؤں کو یکسر مسترد کر دیں گے ۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی کا دورئہ کیرالا ریاست کی ترقیاتی ضروریات کو پورا کرنے کے بجائے فرقہ وارانہ نظریات کو فروغ دینے کے مقصد کیا گیا معلوم ہوتا ہے ۔بی جے پی پر تقسیم کی سیاست پر انحصار کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کے پی سی سی صدر نے سیکولرازم پر کانگریس اور مسلم لیگ کو نصیحت کرنے کے پارٹی کے اخلاقی حق پر بھی سوال اٹھایا۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کا خیال ہے کہ اقتدار میں بنے رہنے کے لیے نفرت اور سماجی پولرائزیشن ہی اس کے واحد ہتھیار ہے ۔ کیرالا ایسی سیاست کو کوئی جگہ نہیں دیتا۔انہوں نے مزید کہا کہ کیرالا کی سیاسی طور پر باشعور اور سیکولر ذہنیت رکھنے والے عوام نے مسلسل انتخابات میں فرقہ وارانہ سیاست کے خلاف واضح مینڈیٹ دیا ہے ۔ ان کے مطابق ریاست کی تکثیری روایت اور مضبوط سیکولر اقدار کی وجہ سے کیرالا بنیادی طور پر بی جے پی کے طرزِ حکمرانی سے مختلف ہے ۔سنی جوزف نے کہا کہ کانگریس اور یو ڈی ایف ووٹ بینک کی سیاست کے لیے ریاست کی مذہبی ہم آہنگی کو خراب کرنے نہیں دیں گے ۔ انہوں نے دوہرایا کہ کانگریس کیرالا کے پُرامن اور ہم آہنگ سماجی ڈھانچے کے تحفظ کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سیکولرازم اور سماجی ہم آہنگی کے تئیں یہی وابستگی وزیر اعظم مودی کی کانگریس اور مسلم لیگ کے خلاف دشمنی کا سبب بنی ہے ، جو ان کے حالیہ بیانات میں صاف طور پر جھلکتی ہے ۔وزیر اعظم کے دورئہ کیرالا پر تنقید کرتے ہوئے سنی جوزف نے کہا کہ مودی اپنے خطاب میں کیرالا کو راحت دینے والا ایک بھی اعلان کرنے میں ناکام رہے ۔انہوں نے وزیر اعظم پر کیرالا کے عوام کی توہین اور انہیں گمراہ کرنے کا الزام لگایا اور اسے کیرالا کی وقار پر ضرب قرار دیتے ہوئے مودی سے عوامی طور پر معافی کا مطالبہ کیا۔