تیرواننتاپورم : کیرلا کے صحافی صدیق کپن کی حبس بیجا سے متعلق درخواست پر پیر 16 نومبر کو سماعت ہوگی۔ صدیق کو 19 سالہ دلت لڑکی کی موت سے متعلق واقعہ کی رپورٹ کیلئے ہتھراس جاتے ہوئے راستے میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔ کیرلا یونین آف ورکنگ جرنلسٹ کی جانب سے یہ درخواست داخل کی گئی ہے جس میں قانون کی حکمرانی کی تکمیل کی اپیل کی گئی ہے کیونکہ جیل حکام کی جانب سے صدیق کپن کو ان کے وکیل سے ملنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے جبکہ ارکان خاندان سے بھی بات چیت کی بھی اجازت نہیں ہے۔ سپریم کورٹ میں درخواست پر سماعت ہوگی اور ارکان خاندان کو مثبت فیصلے کی توقع ہے۔ صدیق کپن فری لانس جرنلسٹ ہیں جو ملیالم پورٹلس کیلئے رپورٹنگ کرتے ہیں۔ صدیق کو متھرا کے راستے میں دیگر تین افراد کے ساتھ غیرقانونی سرگیوں میں ملوث ہونے کے تحت گرفتار کرلیا گیا تھا۔ ان پر سماجی کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کرنے کا بھی الزام ہے۔ کیرلا یونین آف ورکنگ جرنلسٹ کے ایک وکیل ویلس میتھیوز نے بتایا کہ سینئر وکیل کپل سبل سپریم کورٹ میں یونین کی وکالت کریں گے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وہ صدیق کو ارکان خاندان سے بات چیت کی اجازت دینے کا مطالبہ کررہے ہیں۔