کیلنڈر بدل رہے ہیں مگر عوام کی زندگیوں میں خوشحالی نہیں آئی

   

Ferty9 Clinic

پارٹی کے نئے سال کی ڈائری کی رسم اجراء سے تلنگانہ بھون میں کے ٹی آر کا خطاب
حیدرآباد ۔ یکم جنوری (سیاست نیوز) بی آر کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے کہاکہ اگرچہ کیلنڈر بدل رہے ہیں مگر کانگریس کو اُمیدوں کے ساتھ ووٹ دینے والے عوام کی زندگیوں میں کوئی مثبت تبدیلی نظر نہیں آرہی ہے۔ کے ٹی آر نے آج تلنگانہ بھون میں پارٹی کی نئے سال کی ڈائری کی رسم اجراء انجام دی۔ اس موقع پر انھوں نے تلنگانہ اور ملک بھر کے عوام کو نئے سال 2026ء کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ کے ٹی آر نے کہاکہ ریاست گزشتہ دو برسوں سے ترقی کے بجائے تنزلی کی سمت بڑھ رہی ہے۔انھوں نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ تلنگانہ میں وہی حالات لوٹتے دکھائی دے رہے ہیں جو متحدہ آندھراپردیش اور کے سی آر کے چیف منسٹر بننے سے قبل کے تھے۔ کے ٹی آر نے کہاکہ تہواروں کے ماحول کے باوجود کسان یوریا کے لئے پریشان ہیں۔ سرد موسم میں گھنٹوں قطاروں میں کھڑے ہونے کے لئے مجبور ہیں۔ یہ بدحالی کانگریس کے دور حکومت میں دوبارہ سامنے آئی ہے۔ تلنگانہ تحریک کو یاد کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہاکہ مرکز اور متحدہ آندھراپردیش طاقتوں کے خلاف کے سی آر کی قیادت میں 14 سالہ جدوجہد کے بعد علیحدہ تلنگانہ ریاست قائم ہوئی جس کے بعد کے سی آر کا 10 سالہ دور حکومت ترقی و بہبود کی مثالی کارکردگی کا ثبوت ہے جو تاریخ کے سنہری پنوں میں درج ہے جس کو کوئی مٹا نہیں سکتا۔ انھوں نے کہاکہ بی آر ایس گزشتہ دو سال سے حکومت کی بدانتظامی کے خلاف مسلسل عوامی احتجاج کررہی ہے۔ نئے سال کے آغاز کے موقع پر کے ٹی آر نے کہاکہ کامیابی اور ناکامی مستقل نہیں ہوتی مگر تلنگانہ کے عوام کے دلوں میں کے سی آر کا مقام گلابی پرچم کی جگہ لازوال ہے۔ انھوں نے زور دیا کہ جہاں ایک طرف جدوجہد ناگزیر ہے وہیں مضبوط تنظیمی ڈھانچہ بھی وقت کی ضرورت ہے۔ کے ٹی آر نے کہاکہ صداقت، انصاف اور دیانت ہمارے ساتھ ہے اس لئے کامیابی یقینی ہے۔ مرکز اور ریاست کی طاقتیں بی آر ایس کے خلاف سازش کررہی ہیں مگر انھیں مایوسی ہوگی۔ 2028ء کے انتخابات میں بی آر ایس بھاری اکثریت سے کامیاب ہوگی اور کے سی آر دوبارہ چیف منسٹر بنیں گے جس کے بعد سنہرے دور کا احیاء ہوگا۔2