کیلے میں میگنیشیئم، پوٹاشیئم، مینگنیز، فائبر، پروٹین اور وٹامن بی6 اورسی پائے جاتے ہیں

   

۔
حیدرآباد ۔ دنیا بھر میں سب سے زیادہ کھائے جانے والا پھل کیلا (موز) ہے، اس میں ضروری غذائی اجزاء شامل ہیں جو کسی کی بھی صحت کی حفاظت میں مدد کر سکتے ہیں۔ کیلے میں میگنیشیئم، پوٹاشیئم، مینگنیز، فائبر، پروٹین اور وٹامن بی6 اورسی پائے جاتے ہیں، جو کیلے کھانے والے کے بلڈ پریشر، کینسر کے امکانات اوردل کے دورے کا خطرہ بھی کم کر سکتے ہیں۔ کیلا پوٹاشیئم کا بھرپور ذریعہ ہے، درحقیقت ایک کیلے میں 455 ملی گرام پوٹاشیئم ہوتا ہے، ہر دل کی دھڑکن کا انحصار پوٹاشیئم پر ہوتا ہے۔ یہ خون کی صفائی کے ساتھ گردوں کی مدد کرتا ہے اور خلیوں کے اندر اور باہر غذائی اجزاء کے بہاؤ کو منظم کرتا ہے جس سے جسم میں سیال کی سطح کو برقرار رکھنے میں مزید مدد ملتی ہے۔کیلے دل کے دورے سے بچنے میں مددگار: نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ کیلے کو باقاعدگی سے کھانے سے دل کے دورے اور فالج سے بچا جا سکتا ہے۔ کیلے اور پوٹاشیئم سے بھرپور دیگر غذائیں مہلک رکاوٹوں کو روک سکتی ہیں جو شریانوں کو سخت اور تنگ ہونے سے روک سکتی ہیں، ایک کیلا پوٹاشیئم کی روزانہ کی 10 فیصد ضروریات پوری کرتا ہے۔ تحقیق کے مطابق پوٹاشیئم کی سب سے کم خوراک رکھنے والوں میں فالج کا خطرہ ان لوگوں کے مقابلے میں 50 فیصد زیادہ ہوتا ہے جو زیادہ مقدار میں پوٹاشیئم کھاتے ہیں۔ یہ بات مشہور ہے کہ نمک کا زیادہ استعمال بلڈ پریشر، دل کے دورے اور فالج کا خطرہ بڑھاتا ہے، کیلے نمک کے ان منفی اثرات کو بھی کم کرتے ہیں جو کسی فرد کے جسم پر پڑ سکتے ہیں۔ تحقیق بتاتی ہے کہ کیلے میں پائی جانے والی معدنیات دل کے کام کو برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہیں لیکن اس کا مردوں کے مقابلے میں خواتین کو زیادہ فائدہ ہوتا ہے، کیلے پوٹاشیئم سے بھرپور ہوتے ہیں اور یہ پیشاب میں سوڈیم کے اخراج کو بڑھانے میں مدد کرتا ہے۔ دل کے امراض سے متعلق خطرات کو کم کرنے کے علاوہ بھی کیلے بہت سے فوائد سے مالا مال ہیں۔ یادداشت کو محفوظ رکھتا ہے: کیلے میں پایا جانے والا ایک امینو ایسڈ ٹرپٹوفن یادداشت کو برقرار رکھنے، سیکھنے، یادداشت کی صلاحیت کو بہتر بنانے اور موڈ کو منظم کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ ہاضمے کو بہتر کرتا ہے: کیلے میں ریشہ اور پانی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، یہ دو غذائی اجزاء باقاعدگی سے ہاضمے کی حفاظت کرتے ہیں، ایک درمیانہ کیلا ایک شخص کی روزانہ کی ضروریات کا تقریباً 10 فیصد فائبر فراہم کرتا ہے۔ذیابطیس کو روکنے میں معاون: تحقیق میں یہ بھی نتیجہ اخذکیا گیا ہے کہ زیادہ فائبر والی خوراک کھانے سے ٹائپ ٹو ذیابطیس کے خطرے کو روکنے میں مدد مل سکتی ہے، تاہم ذیابطیس کے شکار افراد کو اعتدال میں کیلے کا استعمال کرنا چاہیے۔کینسر کا خطرہ کم: مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ کیلے لیکٹین نامی پروٹین کی موجودگی کی وجہ سے لیوکیمیا کے خلیوں کی نشوونما کو روکنے میں مدد کر سکتے ہیں، یہ ایک اینٹی آکسیڈینٹ کے طور پر کام کرتا ہے، اس طرح کے اینٹی آکسیڈنٹس جسم کو ریڈیکلز سے نجات دلانے میں مدد کرتے ہیں، بہت زیادہ فری ریڈیکلزکا جمع ہونا کینسر کا سبب بن سکتا ہے۔یہاں اس بات کا تذکرہ بھی اہم ہے کہ ماہرین تغذیہ کے بموجب ایسے افراد جوکہ وزن میں کمی کرنے کے خواہاں ہیں اور جو افراد اپنا وزن بڑھانے کے خواہاں ہے ان دونوں حالتوں میں کیلے کے استعمال کا مشورہ دیتے ہیں ۔