’کینیڈا، امریکہ کی وجہ سے آباد نہیں ہے‘

   

l ورلڈ اکنامک فورم میں وزیراعظم کینیڈا کا مذمتی بیان l ٹرمپ نے بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت واپس لے لی

واشنگٹن ۔ 23 جنوری (یو این آئی) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کینیڈا کو غزہ کیلئے بنائے گئے بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت واپس لے لی۔امریکی صدر نے کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی کو غزہ کیلئے حال ہی میں قائم کردہ ‘بورڈ آف پیس’ میں شامل ہونے کی دعوت واپس لے لی ہے اور اس حوالے سے سوشل میڈیا پر بیان جاری کیا ہے ۔صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پیغام میں کہا کہ براہ کرم اس خط کو با ضابطہ اطلاع سمجھیں کہ بورڈ آف پیس کی جانب سے کینیڈا کی شمولیت کے حوالے سے دیا گیا دعوت نامہ واپس لیا جا رہا ہے ۔ان کا یہ بیان ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم میں کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی کی تقریر کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے طاقتور ممالک کی جانب سے اقتصادی انضمام کو بطور ہتھیار اور محصولات کو اپنے فائدے کیلئے استعمال کرنے کی کھل کر مذمت کی تھی اور کہا تھا کہ وہ عالمی تنازعات کے خاتمے کیلئے ٹرمپ کے خود ساختہ ادارے میں شامل ہونے کیلئے کوئی رقم ادا نہیں کرے گی۔مارک کارنی نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس اشتعال انگیز دعوے کا سخت جواب دیا تھا جو انہوں نے ورلڈ اکنامک فورم میں کیا تھا، کہ کینیڈا امریکہ کی وجہ سے زندہ ہے ۔کیوبیک سٹی میں نئی قانون ساز نشست سے قبل قوم سے خطاب کرتے ہوئے مارک کارنی نے کہا کہ ‘کینیڈا امریکہ کی وجہ سے زندہ نہیں ہے ۔ کینیڈا ترقی کرتا ہے کیونکہ ہم کینیڈین ہیں۔ یاد رہے کہ غزہ میں قیام امن کیلئے ٹرمپ پر کئی ممالک کا دباؤ جب ضرورت سے زیادہ بڑھ گیا تو ان کے تجارتی دفاع نے ایک نیا منصوبہ وضع کیا کہ کیوں نہ ایک غزہ امن بورڈ قائم کیا جائے اور اس میں دیگر ممالک کو ایک متعینہ فیس کی وصولی کے بعد اس کا رکن بنایا جائے۔ بہت سے ممالک نے مزاحمت کی کیونکہ وہ تو شروع سے ہی غزہ پر اسرائیل حملے اور امریکہ کی اسرائیل کو مدد کے سخت خلاف تھے۔ اب جبکہ ٹرمپ نے ہر طرف ٹیرف بڑھانے کا جوسلسلہ شروع کر رکھا ہے اس میں انہیں ایک ایسا پہلو نظر آیا جہاں ’آم کے آم گٹھلیوں کے دام‘ کی طرح نہ صرف غزہ میں قیام امن ہوسکتا ہے بلکہ دوسری طرف وہ (ٹرمپ) اس کا سہرہ اپنے سر بھی باندھنے کی کوشش کریں گے جیسا کہ وہ یہ دعویٰ کرتے آئے ہیں کہ دنیا کے بیشتر ممالک میں انہوں نے جنگ بندی کرائی ہے اور وہ امن کے نوبیل انعام کے حقدار ہیں۔ یہ کہتے کہتے انہوں نے ونیزویلا پر نہ صرف حملہ کردیا بلکہ وہاں کے صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کا اغوا کروالیا اور نائب صدر کو ملا ہوا نوبیل انعام بھی بڑی بے شرمی سے لے لیا۔