ٹورنٹو : کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا کے گرونانک سکھ گردوارے میں کل (29 اکتوبر کو) ہونے والے خالصتان ریفرنڈم کی ووٹنگ میں ہزاروں سکھوں کی شرکت متوقع ہے۔ اسی گوردوارے میں 18 جون کو ہندوستانی حکومت کے اہلکاروں نے ہردیپ سنگھ نجر کو درجنوں گولیاں مار کر قتل کر دیا تھا۔ کینیڈین وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو نے ہندوستانی حکومت پر ہردیپ سنگ نجر اور دیگر سکھ رہنماؤں کو دھمکانے کا الزام لگایا تھا۔ کونسل آف خالصتان کے سربراہ ڈاکٹر بخشیش سنگھ سندھو نے اعلان کیا ہے کہ اتوار کو سکھ ریکارڈ تعداد میں ہندوستان کے خلاف اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر کے فیصلہ سنائیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہردیپ سنگھ نجر کے قتل نے تحریکِ خالصتان میں نئی روح پھونک دی ہے، کینیڈین وزیرِ اعظم نے ہمارے خدشات کی تصدیق کر دی ہے کہ بھارت سکھوں کی نسل کشی میں مصروف ہے۔ ڈاکٹر بخشیش سنگھ سندھو نے کہا ہے کہ اب یہ پوری دنیا پہ عیاں ہے کہ بھارت سکھوں کے قتل عام میں ملوث ہے، ہردیپ سنگھ نجر کے ریاستی قتل پر دنیا بھر کے سکھ غم و غصہ سے دو چار ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہردیپ سنگھ نجر کو لگنے والی گولیاں ہر سکھ کو چھلنی کر گئیں، تاہم یہ گولیاں ہندوستان کے تابوت میں آخری کیلیں ثابت ہوں گی۔ سکھ رہنما کا مزید کہنا ہے کہ ریفرنڈم کے ذریعہ سکھ ہندوستان سے آزادی حاصل کر کے اپنا الگ وطن خالصتان قائم کرنا چاہتے ہیں، ہندوستان نے ہردیپ سنگھ نجر کو قتل کر کے اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کینیڈا میں موجود ہندوستانی سفارت کار سکھوں کے خلاف ریاستی دہشت گردی میں ملوث ہیں جس کی تصدیق کینیڈین وزیرِ اعظم بھی کر چکے ہیں، ہم ہردیپ سنگھ نجر کے خون کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔