ٹورنٹو: کینیڈا کی حکومت نے بدھ کے روز کہا کہ شرقِ اوسط میں وسیع تنازعہ کے خدشے کی بنا پر اپنے سفارت کاروں کے اہل خانہ کو اسرائیل سے نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ اور سینیئر حزب اللہ کمانڈر فواد شکر کی ہلاکت کے بعد ایران اور حزب اللہ کے ساتھ اسرائیل کی حالیہ کشیدگی سے خطے میں وسیع تر تنازعہ کے خدشات پیدا ہوئے ہیں جو پہلے ہی غزہ پر اسرائیل کے حملے کی وجہ سے شدید بحران کا شکار ہے۔ اس جنگ میں دسیوں ہزار افراد ہلاک اور زخمی ہوئے اور بڑے پیمانے پر بھوک سمیت انسانی بحران پیدا ہوا ہے۔ کینیڈین پریس کے مطابق گلوبل افیئرز کینیڈا نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے سفارت کاروں کے بچوں اور سرپرستوں کی کسی محفوظ تیسرے ملک میں عارضی منتقلی کی منظوری دے دی ہے۔ مزید کہا گیا ہے کہ مغربی کنارے اور بیروت میں رام اللہ میں تعینات سفارتکاروں کے زیرِ کفالت افراد ان کے ساتھ رہائش پذیر نہیں ہیں۔