ٹورنٹو ۔ 17 جنوری (ایجنسیز) امریکہ نے کینیڈا کی جانب سے چینی الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کو درآمد کی اجازت دینے کے فیصلے پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے خبردار کیا کہ کینیڈا کو اس فیصلے پر پچھتانا پڑے گا۔ امریکی وزیرِ ٹرانسپورٹ شان ڈفی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ کینیڈا نے چینی گاڑیوں کو اپنے بازار میں آنے کی اجازت دے کر غلط فیصلہ کیا ہے اور یہ گاڑیاں امریکہ میں داخل نہیں ہونے دی جائیں گی۔ واضح رہے کہ کینیڈا نے 2024ء میں چینی الیکٹرک گاڑیوں پر 100 فیصد ٹیرف عائد کیا تھا تاہم گزشتہ روز وزیرِاعظم مارک کارنی نے بیجنگ میں ایک معاہدہ کا اعلان کیا ہے جس کے تحت 49 ہزار تک چینی الیکٹرک گاڑیاں 6.1 فیصد ٹیرف پر کینیڈا درآمد کی جا سکیں گی۔ دوسری جانب امریکی تجارتی نمائندہ جیمیسن گریئر نے کہا کہ یہ گاڑیاں صرف کینیڈا تک محدود رہیں گی اور امریکی آٹو انڈسٹری پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا تاہم انہوں نے اس فیصلے کو ’سنگین مسئلہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اپنے آٹو ورکرز کے تحفظ کے لیے چینی گاڑیوں پر سخت ٹیرف کا فیصلہ قائم رکھے گا۔ گریئر نے مزید کہا کہ امریکہ میں گاڑیوں کی سائبر سیکوریٹی سے متعلق سخت قوانین موجود ہیں جس کے باعث چینی گاڑیوں کے لیے امریکی مارکیٹ میں آنا مشکل ہوگا۔ اس سے متعلق ری پبلکن سنٹر برنی مورینو کا کہنا ہے کہ جب تک وہ زندہ ہیں، امریکہ میں چینی گاڑیاں فروخت نہیں ہونے دیں گے۔