کیوں محمود علی صاحب اجلاس سے دور !

   

تلنگانہ میں کیا وزیر داخلہ کی اہمیت نہیں ؟

حیدرآباد۔25۔اگسٹ(سیاست نیوز) تلنگانہ میں وزیر داخلہ کی کوئی اہمیت باقی نہیں ہے!چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے گذشتہ یوم ریاست بالخصوص شہر حیدرآباد کی لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال پر اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد کیا جس میں چیف سیکریٹری مسٹر سومیش کمار‘ ڈائریکٹر جنرل آف پولیس تلنگانہ مسٹر ایم مہیندر ریڈی ‘ کمشنرپولیس حیدرآباد مسٹر سی وی آنند‘ کمشنر پولیس رچہ کنڈہ مسٹر مہیش مرلی دھربھگوت‘ اور کمشنر پولیس سائبرآبادمسٹر ایم اسٹیفن رویندرکے علاوہ دیگر عہدیدار موجود تھے لیکن وزارت داخلہ سے متعلق اس اجلاس میں وزیر داخلہ ہی موجود نہیں تھے اور نہ ہی انہیں اس اس اجلاس میں شرکت کے لئے مدعو کیا گیا تھا۔ریاستی حکومت کی جانب سے وزیر داخلہ کو نظرانداز کرنے کا معاملہ کوئی نیا نہیں ہے بلکہ کئی اہم اجلاسوں میں انہیں مدعو نہ کئے جانے کی مسلسل شکایات سے اس بات کا اندازہ ہورہا ہے کہ ریاستی حکومت واحد مسلم وزیر کو نظرانداز کی پالیسی اختیار کئے ہوئے ہے۔ چیف منسٹر کی جانب سے منعقد کئے گئے اجلاس میں وزیر داخلہ کو مدعو نہ کئے جانے پر ایسا محسوس ہورہا ہے کہ ریاستی حکومت میں اپنی وقعت کھو چکے ریاستی وزیر کی عوام میں بھی اہمیت کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے بلکہ ریاستی حکومت کی جانب سے ان کے قلمدان کے متعلق کئے جانے والے فیصلوں سے بھی وہ واقف نہیں ہیں۔چیف منسٹر کے جائزہ اجلاس کے بعد پرانے شہر کے علاقہ قاضی پورہ ‘ شاہ علی بنڈہ میں پولیس نے مسلم نوجوانو ں کو گھرو ں سے گھسیٹ کرنکالا اور ان پر لاٹھیاں برسائی گئیں تھیں اور مسلمانوں کے گھروں کے دروازوں کو توڑتے ہوئے گھروں سے بچوں کو نکال کرپیٹا گیا ۔چیف منسٹرنے امن و ضبط کی صورتحال پر اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیا لیکن شہر حیدرآباد بلکہ پرانے شہر سے تعلق رکھنے والے وزیر کو ہی مدعو نہیں کیا جاتا اور اس کے بعد پرانے شہر میں پولیس کے غیر انسانی سلوک کا آغاز ہوجاتا ہے اور وزیر داخلہ کی جانب سے اردو اخبارات کے لئے جاری کئے جانے والے بیان میں مسلم نوجوانوں کے جذبۂ ایمانی کی ستائش کرتے ہوئے ان کی سراہنا کی جاتی ہے اور ساتھ ہی شہہ سرخیوں میں پولیس کی ظالمانہ کاروائیوں اور لاٹھی چارج کی خبریں بھی شائع ہوتی ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وزیر داخلہ ریاست بالخصوص شہر میں ہونے والی کاروائیوں سے کس حد تک باخبر ہیں اور عہدیدارو ںکی جانب سے انہیں کتنا باخبر رکھا جارہا ہے۔م