کے ایف سی کی ڈیلیوری گرل :دن میں پڑھائی ،رات میں جاب

   

سندھ : پاکستان کے شہر لاہور سے ایک لڑکی کی حوصلہ بخش سرگرمی کی تفصیل منظرعام پر آئی ہے۔ فیشن ڈیزائننگ کی نوجوان لڑکی رات کو ’کے ایف سی‘ کا کھانا اپنے خاندان کے اخراجات پورے کرنے کیلئے کسٹمرس تک پہنچاتی ہے۔ یہ دنیا کے ان تمام لوگوں کی کہانی ہے، جن کی زندگی جدوجہد سے بھری پڑی ہے، جو ہر روز زندگی گزارنے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنے جیسے کروڑوں لوگوں کے سامنے امید کی کرن بن کر ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔دراصل پاکستانی لڑکی میراب کی یہ کہانی پروفیشنل نیٹ ورکنگ سائٹ LinkedIn پر وائرل ہو رہی ہے جو لوگوں کو کافی متاثر کر رہی ہے۔ لاہور کے یوحنا آباد سے تعلق رکھنے والی میراب متوسط گھرانے سے تعلق رکھتی ہے۔ میراب فیشن ڈیزائننگ میں اپنا کیرئیر بنانا چاہتی ہے۔ وہ فی الحال فیشن ڈیزائننگ میں گریجویشن کر رہی ہے، لیکن وہ اپنے گھر اور خاندان کے اخراجات کو پورا کرنے کیلئے اپنی پڑھائی کے ساتھ ساتھ رات کو ’کے ایف سی‘ میں ڈیلیوری گرل کے طور پر کام بھی کرتی ہے۔میراب دن میں کالج جاتی ہے اور رات کو کے ایف سی ڈیلیوری گرل کا جاب کرتی ہے۔
ایک خاتون لنکڈ ان صارف نے اپنی پروفائل پر اپنی کہانی شیئر کی۔ کے ایف سی کا آرڈر وصول کرتے ہوئے میراب سے ملاقات کی۔ آرڈر دینے والی خاتون نے بتایا کہ آرڈر دینے کے بعد جب ایک لڑکی نے کھانا ڈیلیور کرنے کے لیے فون کیا تو وہ اس کی آواز سن کر پرجوش ہو گئی، کیونکہ بطور ڈیلیوری پرسن لڑکی کی طرف سے کال موصول ہونا ان کا پہلا تجربہ تھا۔ وہ اس کے بارے میں جاننا چاہتی تھی۔ خاتون اور اس کی سہیلیوں نے میراب کو اس کی کہانی جاننے کے لیے کچھ دیر کے لیے ان کے گھر روک کر اس سے پوچھ تاچھ کی۔ جس پر میراب نے بتایا کہ ایک ادارہ اس کی فیشن ڈیزائننگ کی پڑھائی کا انتظام کر رہا ہے لیکن اس کے باوجود انہیں اپنی والدہ کے علاج کے اخراجات پورے کرنے کے لیے یہ کام کرنا پڑ رہا ہے۔میراب نے بتایا کہ اسے بچپن سے ہی موٹر سائیکل چلانے کا شوق تھا، اس لیے وہ کسی کام کی تلاش میں تھی تو اس نے یہ کام کرنا قبول کیا۔ میراب نے بتایا کہ جب تک وہ اپنی تعلیم مکمل نہیں کر لیتی وہ KFC کے ساتھ اپنی وابستگی جاری رکھے گی۔ اس کے بعد میراب اپنا فیشن برانڈ لانچ کرنا چاہتی ہیں۔ لنکڈ ان کے صارفین میراب کی کہانی سے متاثر ہو رہے ہیں۔اور اس کی جدوجہد کو سلام پیش کررہے ہیں۔