کے سی آرکے غلط فیصلوں سے ریاست کا آبپاشی نظام تباہ

   

Ferty9 Clinic

آئندہ انتخابات میں ضلع نظام آبادکو کانگریس کاقلعہ بنانے کا ہدف ‘پی سی سی صدرمہیش کمارگوڑکی پریس کانفرنس
نظام آباد:25؍دسمبر(سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر و ایم ایل سی مسٹر مہیش کمار گوڑ نے الزام عائد کیا کہ سابق وزیر اعلیٰ کے سی آر کے غلط فیصلوں کے سبب کرشنا آبی حصے کی تقسیم میں تلنگانہ کو شدید ناانصافی کا سامنا کرنا پڑا۔ نظام آبادآمد کے موقع پر صحافتی کانفرنس سے وہ مخاطب تھے‘ انہوں نے کہا کہ کے سی آر نے کرشنا کے پانی میں تلنگانہ کا حصہ محض 299 ٹی ایم سی تسلیم کرتے ہوئے دستخط کیے، جس کے نتیجے میں آندھرا پردیش کو مستقل حقوق حاصل ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ جنہوں نے اقتدار میں رہتے ہوئے عوام کے ساتھ ناانصافی کی، انہیں آج کانگریس حکومت پر تنقید کا کوئی اخلاقی حق حاصل نہیں ہے۔مسٹرمہیش کمار گوڑ نے کہا کہ بی آر ایس حکومت کے دور میں پالامورو۔رنگا ریڈی لفٹ اریگیشن پراجکٹ پر 27 ہزار کروڑ روپے خرچ کیے گئے، مگر ایک ایکڑ زمین کو بھی پانی فراہم نہیں کیا جا سکا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کے سی آر کے دور میں ریاست کا آبپاشی نظام تباہ ہوگیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سابق حکومت نے مختلف آبپاشی پراجکٹس سے متعلق سرکاری احکامات کو منظر عام پر نہیں لایا، جبکہ موجودہ کانگریس حکومت شفاف طرز حکمرانی پر عمل پیرا ہے۔ فون ٹیپنگ معاملہ پر انہوں نے واضح کیا کہ اس جرم میں ملوث کوئی بھی شخص سزا سے بچ نہیں سکے گا۔ ایم ایل ایز کی پارٹی تبدیلی سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ اسپیکر کے دائرہ اختیار میں آتا ہے اور اس پر وہ کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔گرام پنچایت انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے مسٹر مہیش کمار گوڑ نے دعویٰ کیا کہ نظام آباد ضلع میں کانگریس نے 90 فیصد سے زائد نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے اور آئندہ منڈل و ضلع پریشد انتخابات میں بھی پارٹی اپنی طاقت ثابت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں غریبوں کی فلاح کو مرکز بنا کر عوامی حکمرانی جاری ہے اور آئندہ انتخابات میں نظام آباد ضلع کو مکمل طور پر کانگریس کا قلعہ بنانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کارکنان سے اپیل کی کہ وہ کانگریس کی کامیابی کیلئے فوجیوں کی طرح منظم ہوکر کام کریں۔ اجلاس میں صدر نشین اردو اکیڈمی مسٹر طاہر بن حمدان صدر ضلع کانگریس کمیٹی مسٹر ناگیش ریڈی گڈوگو گنگادھر رکن زرعی کمیشن، بوببلی رام کرشنا صدر ٹاؤن، کانگریس کمیٹی کیشاوینو اور دیگر قائدین بھی موجود تھے۔