کے سی آر تلنگانہ تاریخ کا اٹوٹ حصہ ، کے ٹی آر

   

سابقہ چیف منسٹرانکا نام و نشان مٹانا چیف منسٹر ریونت ریڈی کے بس کی بات نہیں
حیدرآباد /30 اکٹوبر ( سیاست نیوز ) بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے کہا کہ سابق چیف منسٹر کے سی آرتلنگانہ تاریخ کا حصہ ہے ۔ ان کا نام و نشان مٹانا چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کے بس کی بات نہیں ہے ۔ سوشیل میڈیا کے پلیٹ فارم ایکس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی بار بار سابق چیف منسٹر کے سی آر کا نام و نشان مٹانے کا دعوی کر رہے ہیں مگر ان کی یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی ۔ کیونکہ کے سی آر وہ شخصیت کا نام ہے جس نے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کو نہ صرف علحدہ تلنگانہ ریاست کیلئے منوایا ہے بلکہ تلنگانہ میں پرامن احتجاج کرتے ہوئے عوام کو متحد کرنے میں اہم رول ادا کیا ہے ۔ انہوں نے چیف منسٹر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تم جب عہدوں کیلئے آندھرائی قائدین کی غلامی کر رہے تھے اس وقت کے سی آر علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کیلئے عہدوں کی قربانی دی ہے ۔ تلنگانہ کی تحریک میں شدت پیدا کرنے کیلئے کے سی آر نے اپنی زندگی کو بھی داؤ پر لگادیا تھا ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ کانگریس کے 328 دن کی حکومت میں 75,118 کروڑ روپئے کا قرض کہاں خرچ کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ 13 اگست تک صرف آر بی آئی سے 42,118 کروڑ روپئے کا قرض حاصل کیا گیا ۔ اس طرح ہر ماہ بانڈس کو نیلام کرتے ہوئے 5 تا 6 ہزار کروڑ روپئے کا قرض حاصل کیا گیا ۔ اس کے علاوہ حکومت نے مختلف کارپوریشنس کو گیارنٹی دیتے ہوئے 25 ہزار کروڑ روپئے کا علحدہ قرض حاصل کیا ہے ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ بی آر ایس کے دور حکومت میں قرض کو سرمایہ کاری کے طور پر استعمال کرتے ہوئے اثاثہ جات تیار کئے گئے ۔ بڑے بڑے آبپاشی پراجکٹس تعمیر کئے گئے معیاری برقی سربراہ کی گئی ۔ ریتو بندھو اسکیم پر عمل کیاگیا ۔ مختلف فلاحی اسکیمات پر کامیابی سے عمل آور کی گئی ۔ 2