کے سی آر تلنگانہ کے نئے جاگیر دار ‘ شہیدان تلنگانہ کی قربانیاں رائیگاں

,

   

آئندہ حکومت کانگریس کی ہوگی ‘ نوجوانوں اور تمام طبقات سے انصاف کا وعدہ ۔ سرور نگر میں جلسہ عام سے پرینکا گاندھی کا خطاب ‘ ہزاروں افراد کی شرکت

حیدرآباد۔8۔مئی (سیاست نیوز) جنرل سکریٹری اے آئی سی سی پرینکا گاندھی نے تلنگانہ عوام سے اپیل کی کہ شہیدان تلنگانہ کے خوابوں کی تکمیل اور ریاست کے مستقبل کو بچانے اور ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے آئندہ انتخابات میں پورے شعور اور چوکسی کے ساتھ فیصلہ کریں۔ حیدرآباد کے سرورنگر اسٹیڈیم میں بیروزگار نوجوانوں کے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے بی آر ایس حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل میں کے سی آر ناکام ہوچکے ہیں۔ ہزاروں افراد کی موجودگی میں پرینکا گاندھی نے یوتھ ڈکلیریشن جاری کیا جس کے تحت تلنگانہ کے بیروزگار نوجوانوں سے کئی وعدے کئے گئے ہیں۔ پرینکا گاندھی نے کہا کہ کانگریس پارٹی برسر اقتدار آنے کے بعد 5 برسوں میں نوجوانوں سے کئے گئے تمام وعدوں کی تکمیل کرے گی اور اگر ہم وعدوں کی تکمیل میں ناکام رہتے ہیں تو دوبارہ اقتدار حوالے نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے مستقبل کو بچانا ریاست کو ترقی کی راہ پر آگے بڑھانا اور ملک کو فرقہ پرست سیاست سے بچانا ہو تو آپ کو پورے شعور کے ساتھ الیکشن میں فیصلہ کرنا ہوگا۔ شہیدوں کی قربانیوں اور ان کے خوابوں کی تکمیل کیلئے کانگریس حکومت جدوجہد کرے گی ۔ علحدہ تلنگانہ کی تشکیل کا مقصد ایک مضبوط ریاست کا قیام تھا لیکن کے سی آر حکومت نے تلنگانہ کو پسماندہ بنادیا ہے۔ پرینکا گاندھی نے 35 منٹ طویل تقریر میں شہیدان تلنگانہ کی قربانیوں کو بار بار یاد کرتے ہوئے ان کے خوابوں کی تکمیل کا عہد کیا ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ محض ایک سرزمین کا نام نہیں بلکہ عوام اس سرزمین کو ماں کا درجہ دیتے ہیں۔ سینکڑوں نوجوانوں نے اپنی ماں کیلئے جان قربان کردی۔ روزگار، پانی اور اثاثہ جات کے نام پر تلنگانہ تحریک چلائی گئی تاکہ سماج کے ہر طبقہ کو اس کا حق ملے اور سماجی انصاف کے ڈاکٹر امبیڈکر کے نظریہ پر عمل آوری ہو۔ سماج کے ہر طبقہ نے علحدہ تلنگانہ جدوجہد میں حصہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ علحدہ تلنگانہ تحریک کسی ایک قائد کی نہیں بلکہ ایک عوامی تحریک تھی اور قربانیوں کے نتیجہ میں ریاست تشکیل پائی ہے۔ میرے خاندان نے بھی ملک کیلئے قربانیاں دی ہیں اور مجھے احساس ہے کہ قربانی دینے والے خاندان کے جذبات کیا ہوتے ہیں۔ کانگریس اگر اقتدار اور سیاست کے بارے میں سوچتی تو علحدہ تلنگانہ قائم نہیں کی جاتی ۔ سونیا گاندھی نے عوامی جذبات کا احترام کرتے ہوئے ایک مضبوط ریاست کے مقصد سے علحدہ ریاست قائم کی۔ پرینکا گاندھی نے کہا کہ گزشتہ 9 برسوں میں بی آر ایس حکومت نے شہیدان تلنگانہ کے خوابوں کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے۔ عوام نے جو خواب دیکھا تھا وہ پورا نہیں ہوا۔ تلنگانہ میں پانی ، روزگار اور فنڈس صرف برسر اقتدار پارٹی سے تعلق رکھنے والے افراد اور انکے دوستوں کو حاصل ہورہے ہیں۔ کے سی آر اور ان کے خاندان پر تنقید کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہاکہ وہ سمجھتے ہیں کہ تلنگانہ ان کی جاگیر ہے اور وہ تلنگانہ کے نئے جاگیردار ہیں۔ بی آر ایس حکومت نے کسانوں سے قرض معافی کا وعدہ کیا تھا لیکن ڈھائی لاکھ کسان آج بھی فی کس دیڑھ لاکھ روپئے کے قرض دار ہیں۔ 2014 ء کے بعد سے آج تک 8000 کسانوں نے خودکشی کی اور روزانہ 3 کسان خودکشی کرتے ہیں۔ ہر گھر میں روزگار کا وعدہ کے سی آر نے پورا نہیں کیا جبکہ ریاست میں 40 لاکھ بیروزگار نوجوان ہیں۔ 2018 ء میں بیروزگار نوجوانوں کیلئے 3016 روپئے الاؤنس کا اعلان کیا گیا تھا لیکن آج تک یہ وعدہ پورا نہیں ہوا۔ دو لاکھ جائیدادیں خالی ہیں اور پبلک سرویس کمیشن کے امتحانی پرچہ جات کا افشاء ہوا ہے۔ 9 برسوں میں تلنگانہ کی 12 یونیورسٹیز میں تقررات نہیں کئے گئے۔ عثمانیہ یونیورسٹی اور دیگر یونیورسٹیز اسٹاف اور فنڈس کی کمی کا شکار ہیں۔ خانگی یونیورسٹیز قائم کی گئیں جو عوام کو لوٹ رہی ہیں۔ ایس سی ، ایس ٹی ، بی سی اور اقلیتی طلبہ کے 4000 کروڑ کے فیس ری ایمبرسمنٹ کے بقایہ جات ہیں۔ سرکاری اسکولوں کی تعداد کم کردی گئی اور محکمہ تعلیم کا بجٹ گھٹا دیا گیا ۔ پرینکا گاندھی نے کہا کہ سینکڑوں قربانیوں کے باوجود آپ کو سرکار ملی ہے، اس نے خوابوں کو توڑ دیا ہے۔ آئندہ چند ماہ میں تلنگانہ میں الیکشن ہوں گے اور نئی حکومت کے بارے میں آپ پورے شعور اور چوکسی کے ساتھ فیصلہ کریں تاکہ وعدوں پر عمل ہوسکے۔ مجھے آپ لوگ نئی اندراماں کہتے ہیں جس سے مجھے اپنی ذمہ داری کا احساس ہونے لگا ہے۔ تلنگانہ میں اندراماں راج آپ کی خواہش ہے اور میں آپ سے جھوٹے وعدے نہیں کرسکتی۔ مذہب و ذات پات کے نام پر عوام کو گمراہ کرکے ووٹ حاصل کرنے کی کوششوں کو ناکام بنانے کی ضرورت ہے۔ پرینکا گاندھی نے کہاکہ اگر تلنگانہ میں آپ بائے بائے کے سی آر چاہتے ہیں تو اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں۔ پرینکا گاندھی نے یوتھ ڈکلیریشن کے تمام وعدوں پر عمل آوری کا تیقن دیا جس میں ایک سال میں دو لاکھ جائیدادوں پر تقررات ، ہر سال جاب کیلینڈر کی اجرائی ، طلبہ کے 4000 کروڑ کے فیس ری ایمبرسمنٹ بقایہ جات کی اجرائی، ہر زون میں ایمپلائیمنٹ ایکسچینج کا قیام ، خانگی اداروں میں تقررات کیلئے مقامی امیدواروں کو 75 فیصد تحفظات اور 18 سال کی طالبات کو الیکٹرک اسکوٹر کی فراہمی شامل ہیں۔ جلسہ عام سے اے آئی سی سی انچارج مانک راؤ ٹھاکرے ، صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی ، سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرمارکا اور دوسروں نے مخاطب کیا ۔ شہ نشین پر سینئر قائدین جانا ریڈی ، اتم کمار ریڈی ، وی ہنمنت راؤ ، پونالہ لکشمیا ، رینوکا چودھری ، محمد علی شبیر ، محمد اظہرالدین ، جیون ریڈی ، پونم پربھاکر ، چنا ریڈی ، وسنت کمار اور محاذی تنظیموں کے قائدین موجود تھے۔ر