کے سی آر تلنگانہ کے چیف منسٹر یا واسالا مری گاؤں کے سرپنچ

   

Ferty9 Clinic

حکمران خاندان پر نئی ریاست کو یرغمال بنالینے کا الزام ، اندرا ولی کا جلسہ عام کامیاب ہونے کا اشارہ : مدھوگوڑ یشکی
حیدرآباد ۔ 7 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ پردیش کانگریس تشہیری کمیٹی کے صدر نشین مدھو گوڑ یشکی نے صرف واسالا مری گاؤں ہی حکومت کی مہربانیاں پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کے سی آر کیا واسالا مری گاؤں کے سرپنچ ہیں یا ریاست تلنگانہ کے چیف منسٹر ؟ آج گاندھی بھون میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ اس موقع پر تلنگانہ پردیش کانگریس تشہیری کمیٹی کے کنوینر سید عظمت اللہ حسینی بھی موجود تھے ۔ انہوں نے کہا کہ علاقہ کی ترقی ، نوجوانوں کو روزگار اور سماج کے تمام طبقات کے ساتھ انصاف کرنے کے لیے سونیا گاندھی نے علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دیا تھا ۔ تاہم چیف منسٹر کے سی آر کے خاندان نے ریاست تلنگانہ کو یرغمال بنالیا ہے اور من مانی فیصلے کرتے ہوئے فاضل بجٹ رکھنے والے تلنگانہ کے ہر بچہ بچہ کو مقروض بنادیا ہے ۔ ملازمتیں فراہم کرنے کے وعدے کو پورا نہیں کیا گیا ۔ ڈبل بیڈ روم کے وعدے کو پورا نہیں کیا گیا ۔ انتخابی منشور میں جو بھی وعدے کئے گئے تمام وعدوں کو فراموش کردیا گیا ہے ۔ جب بھی انتخابات آتے ہیں کے سی آر سماج کے مختلف طبقات کو ہتھیلی میں جنت دکھاتے ہیں ۔ دلت بندھو اسکیم اس کی زندہ مثال ہے ۔ ریاست کے کئی گاوں آج بھی پسماندگی کا شکار ہے لیکن چیف منسٹر اپنے اڈاپ کردہ ( گود ) لیئے ہوئے گاؤں کی ترقی پر ساری توجہ دیتے ہوئے یہ تاثر پیش کررہے ہیں کہ وہ ریاست کے چیف منسٹر نہیں ہے بلکہ واسالامری گاوں کے سرپنچ ہیں ۔ چیف منسٹر نے سب سے پہلے تلنگانہ کا پہلا چیف منسٹر دلت کو بنانے کا وعدہ کیا ۔ اس سے انحراف کیا پھر دلت طبقات کو تین ایکر اراضی دینے کا وعدہ کیا ۔ اس کو بھی فراموش کردیا ۔ حضور آباد کے ضمنی انتخابات منعقد ہونے والے ہیں دلت بندھو اسکیم کے نام سے نیا سیاسی ڈرامہ کیا جارہا ہے ۔ اگر وعدے کے مطابق ملازمتیں فراہم کی جاتی تو سماج کے تمام طبقات عزت و نفس کی زندگی گزارتے تھے ۔ سید عظمت اللہ حسینی نے کہا کہ انگریزوں کے خلاف ہندوستان چھوڑ دو تحریک کا 9 اگست کو آغاز کیا گیا تھا اسی دن کانگریس کی جانب سے اندراولی میں دلت گریجن کی پکار جلسہ عام کا اہتمام کیا جارہا ہے ۔ اس جلسہ عام پر عوام کے ردعمل کو دیکھتے ہوئے اندازہ ہے کہ اس میں ایک لاکھ سے زائد عوام شرکت کریں گے اور جلسہ عام کامیاب رہے گا ۔۔