مجلس کے محض 9 نشستوں پر مقابلہ پر سوال، بی آر ایس اور بی جے پی کی مدد کا الزام، پرینکا گاندھی کا چار اسمبلی حلقہ جات میں جلسوں سے خطاب
حیدرآباد ۔24۔نومبر (سیاست نیوز) کانگریس قائد پرینکا گاندھی نے کہا کہ تلنگانہ میں کے سی آر حکومت کا وقت مکمل ہوچکا ہے اور ’ایکسپائری ڈیٹ‘ گذرچکی ہے ، لہذا ریاست میں کانگریس کا اقتدار یقینی ہے۔ پرینکا گاندھی نے کانگریس انتخابی مہم کے دو روزہ دورہ کے پہلے دن آج پالا کرتی ورنگل ، حسن آباد ضلع کریم نگر اور کتہ گوڑم کھمم میں کانگریس کے انتخابی جلسوں سے خطاب میں بی آر ایس ، بی جے پی اور مجلس کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ پرینکا گاندھی کی انتخابی ریالیوں میں ہزاروں عوام شریک تھے اور عوامی جوش و خروش کو دیکھتے ہوئے انہوں نے تلگو زبان میں نعرہ لگایا ’تبدیلی چاہئے اور کانگریس کا اقتدار واپس چاہئے‘۔ پرینکا نے گزشتہ 10 برسوں میں بی آر ایس حکومت پر عوام کی توقعات کی تکمیل میں ناکامی کا الزام عائد کیا اور کہا کہ عوام نے دو مرتبہ اقتدار کا موقع دیا لیکن کے سی آر حکومت مسائل کی یکسوئی اور وعدوں کی تکمیل میں ناکام ہوچکی ہے۔ انہوں نے ریمارک کیا کہ بی آر ایس حکومت کی برقراری کی مدت ختم ہوچکی ہے اور ایکسپائری ڈیٹ بھی گزر گئی ۔ انہوں نے تلنگانہ میں کانگریس کی لہر کی پیش قیاسی کی اور کہا کہ آئندہ حکومت کانگریس کی ہوگی۔ انہوں نے عوام سے کہا کہ وہ ایسی حکومت کو ہرگز ووٹ نہ دیں جو بدعنوانیوں اور کرپشن میں ملوث رہی ہے۔ حکومت نے عوام سے ہزاروں کروڑ لوٹے ہیں جس کے نتیجہ میں نوجوان ، کسان ، خواتین اور دیگر شعبہ جات کو مایوسی ہوئی ہے۔ پرینکا گاندھی نے بی جے پی اور بی آر ایس پر ایک دوسرے کی مدد کا الزام عائد کیا اور کہا کہ مرکز اور ریاستی حکومتیں غریبوں اور متوسط طبقات کی بجائے صنعتکاروں کیلئے کام کر رہی ہیں ۔ پارلیمنٹ میں بی آر ایس نے ہر موڑ پر بی جے پی کی مدد کی ہے جس سے نئے قوانین منظور کئے گئے۔ تلنگانہ میں کانگریس کا بی آر ایس سے مقابلہ ہے اور بی جے پی کو ووٹ دینا بی آر ایس کو ووٹ کے برابر ہے۔ پرینکا گاندھی نے مجلس کو نشانہ بنایا اور کہا کہ مجلس ان دونوں سے قریب ہے اور بی آر ایس اور بی جے پی کی مدد کیلئے انتخابات میں حصہ لیتی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ دیگر ریاستوں میں 40 تا 50 نشستوں پر مقابلہ کرنے والی مجلس تلنگانہ میں 9 نشستوں تک محدود کیوں ہے؟ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس اور بی جے پی کو فائدہ پہنچانے مجلس اپنی ریاست میں محدود نشستوں پر مقابلہ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اویسی بھارت جوڑو یاترا کے تحت 4000 کیلو میٹر کا سفر طئے کرنے والے راہول گاندھی کو نشانہ بناتے ہیں جنہوں نے ملک کے اتحاد کیلئے پد یاترا کی تھی ۔ انہوں نے نوجوانوں سے کہا کہ وہ روزگار اور خوشحالی کیلئے حالات کو اپنی طاقت کے ذریعہ تبدیل کریں۔ پرینکا گاندھی نے بی آرایس و بی جے پی کی ناکامیوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ تلنگانہ نئی ریاست ہے اور گزشتہ 10 برسوں سے بی آر ایس برسر اقتدار ہے۔ عوام کی جدوجہد اور قربانیوں سے علحدہ تلنگانہ تشکیل دی گئی۔ پرینکا گاندھی نے کہا کہ تلنگانہ کے ہرشہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ ووٹ کا صحیح استعمال کرکے ریاست کی حفاظت کریں۔ ووٹ کے استعمال سے قبل قائدین کی نیت اور پارٹیوں کی پالیسی کا جائزہ لیا جائے۔ تلنگانہ کیلئے جن شہیدوں نے اپنی جان قربان کی ، ان کی قربانیاں رائیگاں نہ ہونے پائیں۔ انہوں نے کہا کہ بیروزگاری میں تلنگانہ ملک میں سرفہرست ہے۔ نوجوان ملازمت کیلئے امتحانات کی تیاری کرتے ہیں لیکن پرچہ جات کا افشا ہورہا ہے جس سے نوجوانوں کا مستقبل تاریک ہوگیا۔ کئی نوجوانوں نے خودکشی کرلی ۔ ایک لڑکی نے جب خودکشی کی تو حکومت نے غلط بیانی سے کام لیا کہ طالبہ نے درخواست نہیں دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ خودکشی کے باوجود لڑکی کی کردار کشی کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ راجستھان میں دو لاکھ روزگار فراہم کئے گئے ،ا سی طرح تلنگانہ میں دو لاکھ جائیدادوں پر تقررات کئے جائیں گے اور ہر سال جاب کیلنڈر جاری کیا جائے گا جس سے امتحانی پرچہ جات کے افشاء کو روکا جاسکتا ہے ۔ طلبہ کو تعلیمی امداد کے طورپر پانچ لاکھ روپئے دئے جائیں گے اور ہر منڈل میں انٹرنیشنل اسکول قائم کیا جائے گا ۔ بی آر ایس حکومت نے گاؤں گاؤں شراب کی دکانیں کھول دی ہیں جس سے خواتین کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے۔ تلنگانہ میں خواتین پر مظالم میں اضافہ ہوا ہے۔ مہنگائی سے خواتین کو نجات دلانے 500 روپئے میں گیس سلینڈر سربراہ کیا جائیگا۔ آر ٹی سی میں خواتین کو مفت سفر کی سہولت رہے گی اور ہر ماہ 2500 روپئے کی امداد دی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ وقت آچکا ہے کہ تلنگانہ کے عوام تبدیلی کا فیصلہ سنائیں کیونکہ حکومت کرپشن میں ڈوب چکی ہے اور ہزاروں کروڑ لوٹے گئے ۔ پرینکا گاندھی نے کہا کہ تلنگانہ میں زمینداروں کی حکومت کا خاتمہ ہوگا اور عوام کی حکومت قائم ہوگی۔