کے سی آر دغا باز، مودی ملک فروش

   

اسمبلی حلقہ ناگرجنا ساگر سے جاناریڈی کی بھاری اکثریت سے کامیابی یقینی : محمد علی شبیر

حیدرآباد : کانگریس کے سینئر قائد سابق ریاستی وزیر محمد علی شبیر نے چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کو دغاباز اور وزیراعظم نریندر مودی کو ملک فروش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ناگرجنا ساگر ضمنی انتخابات میں کانگریس کے امیدوار جاناریڈی کی بھاری اکثریت سے کامیابی کو یقینی قرار دیا۔ حالیہ ضلع نلگنڈہ میں منعقدہ ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ تلنگانہ کی خاطر 2012ء میں جاناریڈی نے چیف منسٹر کے عہدہ کی قربانی دی تھی لیکن موجودہ چیف منسٹر کے سی آر نے علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دینے پر ٹی آر ایس کو کانگریس میں ضم کرنے کا وعدہ کیا، جس پر بھروسہ کرتے ہوئے کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے علحدہ تلنگانہ ریاست تشکیل دیا جس کے بعد کے سی آر نے سونیا گاندھی کو دھوکہ دیتے ہوئے فارم ہاؤز میں پناہ لی اور اپنا فون بھی بند کرلیا۔ ایک طرف جاناریڈی نے علحدہ تلنگانہ ریاست کی خاطر چیف منسٹر کے عہدہ کو ٹھکرا دیا، دوسری طرف کے سی آر نے دغابازی کی۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد ریاست کے 4 کروڑ عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ صرف کے سی آر کے چار ارکان خاندان کو فائدہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جاریڈی کیلئے عہدہ وزارت کوئی نئی بات نہیں ہے۔ محمد علی شبیر نے وزیراعظم نریندر مودی کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کانگریس کی جانب سے ملک کے اثاثہ کے طور پر قائم کئے گئے پبلک سیکٹرس کو خانگی شعبہ کے حوالہ کیا جارہا ہے۔ چائے فروخت کرنے والے مودی اب ملک کے صنعتوں کو فروخت کررہے ہیں اور کانگریس ہی سوال کررہے ہیں کہ کانگریس نے کیا کیا ہے۔ انہوں نے اسمبلی حلقہ ناگرجنا ساگر کے عوام سے اپیل کی ہیکہ وہ اپنے حلقہ کی ترقی اور غریب عوام کی ایوان میں نمائندگی کیلئے جاناریڈی کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنائے۔ ٹی آر ایس اور بی جے پی کے جھانسے میں آنے والے اپنا قیمتی ووٹ ضائع نہ کریں بلکہ ہر ایک ووٹ کانگریس کیلئے استعمال کریں۔