9 وزراء کانگریس و تلگودیشم سے منحرف، 2 چیف منسٹر کے رشتہ دار
حیدرآباد۔/8 ستمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز کونسل کے سابق قائد اپوزیشن محمد علی شبیر نے کہا کہ تلنگانہ کی کابینہ میں شمولیت کیلئے دو شرائط ضروری ہیں ایک تو چیف منسٹر کا رشتہ دار ہونا یا پھر کسی پارٹی سے منحرف ہونا ایسے افراد کو ہی تلنگانہ کابینہ میں جگہ مل سکتی ہے۔ کابینہ میں آج کی توسیع کے بعد محمد علی شبیر نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ریاست کے 18 وزراء میں 9 کا تعلق کانگریس یا تلگودیشم کے منحرف قائدین سے ہے جبکہ 2 چیف منسٹر کے رشتہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بنگارو تلنگانہ میں پارٹی سے انحراف اور رشتہ داری اہمیت رکھتی ہے اور چیف منسٹر نے ان ہی بنیادوں پر اپنی کابینہ تشکیل دی ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ خود چیف منسٹر سابق میں کانگریس اور تلگودیشم سے تعلق رکھتے تھے۔ کابینہ میں محمود علی، جگدیش ریڈی، ای راجندر، نرنجن ریڈی، وی سرینواس گوڑ اور پرشانت ریڈی ایسے وزراء ہیں جن کا تعلق ٹی آر ایس سے ہے جبکہ اندرا کرن ریڈی کانگریس ، سبیتا اندرا ریڈی کانگریس، ملا ریڈی تلگودیشم ، اجئے کمار کانگریس، ستیاوتی راٹھور تلگودیشم، جی کملاکر تلگودیشم، کے ایشور تلگودیشم، ٹی سرینواس یادو تلگودیشم اور ای دیاکر راؤ تلگودیشم سے انحراف کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کے ٹی آر چیف منسٹر کے فرزند اور ہریش راؤ چیف منسٹر کے بھانجہ ہیں۔ اگر کے سی آر کی دختر کویتا کو شامل کرلیا جاتا تو خاندان کے تمام تینوں سیاسی قائدین کابینہ میں جگہ پاتے پتہ نہیں کن وجوہات کے سبب کویتا کو نظر انداز کردیا گیا۔ حالانکہ حالیہ عرصہ میں ان کی شمولیت کے بارے میں کافی اطلاعات گشت کررہی تھیں۔ نظام آباد میں شکست کے بعد سے کویتا ٹی آر ایس میں ناراض چل رہی ہیں لیکن کے سی آر نے انہیں کابینہ میں شامل نہیں کیا۔ ہوسکتا ہے کہ کویتا کو آئندہ سال راجیہ سبھا کی رکنیت دی جائے گی۔ محمد علی شبیر نے کابینہ میں شامل کئے گئے وزراء کے سیاسی پس منظر کے حوالہ سے حیرت کا اظہار کیا کہ ان میں ایسے وزراء کی اکثریت ہے جو علحدہ تلنگانہ تشکیل کی مخالفت کرچکے ہیں اور انہوں نے تلنگانہ تحریک کے دوران نہ صرف دوری اختیار کی بلکہ تحریک میں شامل کارکنوں کے خلاف کارروائی کیلئے پولیس کا استعمال کیا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ تلنگانہ کے غداروں پر مشتمل کابینہ کے ساتھ کے سی آر تلنگانہ عوام کی کس طرح خدمت کر پائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ عوام کے سی آر کی جانب سے مخالف تلنگانہ عناصر کی حوصلہ افزائی کا جائزہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے پیش قیاسی کی کہ کابینہ کی تشکیل کے بعد ٹی آر ایس میں ناراضگیاں مزید شدت اختیار کرلیں گی۔
