کے سی آر لوک سبھا اور اسمبلیوں کے یکساں انتخابات کے حق میں

   

ریونت ریڈی نے کے سی آر کا جولائی 2018 کا مکتوب جاری کیا، موجودہ موقف واضح کرنے کا مطالبہ
حیدرآباد۔/3ستمبر، ( سیاست نیوز) مرکز کی جانب سے لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کے یکساں انتخابات کی تجویز سے متعلق سرگرمیوں کے دوران اپوزیشن اتحاد انڈیا نے تجویز کی مخالفت کی ہے تاہم تلنگانہ میں برسراقتدار بی آر ایس نے تازہ ترین موقف کا اظہار نہیں کیا۔ اسی دوران صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے چیف منسٹر کے سی آر کا 6 جولائی 2018 کو لاء کمیشن کو روانہ کردہ مکتوب میڈیا کیلئے جاری کیا جس میں کے سی آر نے لوک سبھا اور اسمبلیوں کے یکساں انتخابات کی تائید کی تھی۔ ٹی آر ایس کے صدر اور چیف منسٹر کی حیثیت سے کے سی آر نے 6 جولائی 2018 کو ڈاکٹر جسٹس بی ایس چوہان صدرنشین لاء کمیشن آف انڈیا کو مکتوب روانہ کیا تھا۔ مکتوب میں لاء کمیشن کی جانب سے 14 جون 2018 کو روانہ کردہ مراسلہ کا حوالہ دیا گیا جس میں یکساں انتخابات کیلئے رائے طلب کی گئی۔ کے سی آر نے لکھا کہ میں اپنی پارٹی ٹی آر ایس کو موقف کے اظہار کا موقع دینے پر اظہار تشکر کرتا ہوں۔ انہوں نے لکھا کہ ہم جانتے ہیں کہ لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات کے انعقاد کیلئے چار تا چھ ماہ کا وقت گذرتا ہے۔ ساری ریاست اور ضلع ایڈمنسٹریشن کے علاوہ سیکوریٹی مشنری پانچ برسوں میں دو مرتبہ انتخابات کے سلسلہ میں مصروف رہتی ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ طویل مدت تک انتخابی ضابطہ اخلاق کے نفاذ سے ریاستی حکومت کی جانب سے عمل کی جارہی ترقیاتی اور فلاحی اسکیمات متاثر ہوتی ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ پانچ برسوں میں دو انتخابات کی صورت میں بڑے پیمانے پر عوامی رقومات کے علاوہ سیاسی پارٹیوں اور امیدواروں کو دو مرتبہ بھاری رقومات خرچ کرنی پڑتی ہیں۔ اسمبلی اور لوک سبھا کے یکساں انتخابات کے عدم انعقاد کی صورت میں زائد خرچ ہوتا ہے۔ مذکورہ بالا صورتحال کے تناظر میں تلنگانہ راشٹرا سمیتی ملک میں لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کے یکساں انتخابات کے انعقاد کی بھرپور تائید کرتی ہے۔ مکتوب میں لکھا گیا کہ چونکہ میں پہلے سے طئے شدہ پروگراموں کے سلسلہ میں مصروف ہوں لہذا میری جانب سے رکن پارلیمنٹ لوک سبھا ڈی ونود کمار کو روانہ کررہا ہوں تاکہ کمیشن کو اپنی تجاویز اور موقف سے واقف کرایا جائے۔ چیف منسٹر کی دستخط سے روانہ کردہ مکتوب جاری کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کے سی آر سے یکساں انتخابات پر موقف کی وضاحت طلب کی ہے۔