کے سی آر ملک میں واحد بائی الیکشن چیف منسٹر: پونالہ لکشمیا

   

Ferty9 Clinic

الیکشن کے حلقہ جات کی ترقی پر توجہ، دیگر حلقے نظرانداز
حیدرآباد۔2 ۔اگست (سیاست نیوز) سابق صدر پردیش کانگریس پونالہ لکشمیا نے الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر کے سی آر صرف ضمنی انتخابات کیلئے چیف منسٹر کی حیثیت سے عوام کے درمیان پیش ہورہے ہیں۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے پونالہ لکشمیا نے کہا کہ ملک بھر میں کے سی آر کو منفرد مقام حاصل ہے کیونکہ دیگر ریاستوں کے چیف منسٹر پانچ سال چیف منسٹر رہتے ہیں لیکن کے سی آر صرف ضمنی انتخابات کے موقع پر چیف منسٹر کا رول ادا کرتے ہیں۔ کے سی آر کو بائی الیکشن چیف منسٹر قرار دیتے ہوئے پونالہ لکشمیا نے کہا کہ جب کبھی ضمنی انتخابات آتا ہے چیف منسٹر سیاسی فائدہ کیلئے ہزاروں کروڑ کے پیکیج کے ساتھ میدان میں دکھائی دیتے ہیں۔ انہیں ریاست کے دیگر اسمبلی حلقہ جات کی ترقی سے کوئی مطلب نہیں ۔ جس حلقہ میں ضمنی چناؤ ہو وہاں کا دورہ کرتے ہوئے ہزاروں کروڑ کے اعلانات کرتے ہیں۔ ارکان اسمبلی یہ سوچنے پر مجبور ہوچکے ہیں کہ ان کے حلقہ کی ترقی کیلئے حکومت سے فنڈس حاصل کرنا ہو تو ضمنی چناؤ کی صورتحال پیدا کرنی ہوگی۔ دوباک ، ناگرجنا ساگر اور حضور آباد کے ضمنی چناؤ کے سلسلہ میں چیف منسٹر کی سرگرمیاں دیگر علاقوں کے عوام کیلئے باعث حیرت ہے۔ انہوں نے چیف منسٹر کے عہدہ کیلئے ایک اسمبلی حلقہ کی ترقی کا جائزہ لینے کو نامناسب قرار دیا اور کہا کہ کل کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا تھا ، اس کے دوسرے دن چیف منسٹر ناگرجنا ساگر پہنچ گئے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی حلقہ جات کی ترقی کا جائزہ لینا وزیر کی ذمہ داری ہوتی ہے لیکن چیف منسٹر کو سیاسی فائدہ زیادہ عزیز ہے۔ 2014 ء سے قبل عوام سے جو وعدے کئے گئے تھے ، ان کی 7 برسوں میں تکمیل نہیں کی گئی ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جہاں کہیں ضمنی الیکشن ہو چیف منسٹر وہاں سیاسی فائدہ کیلئے پہنچ جاتے ہیں۔ انہوں نے دلت بندھو اسکیم کو حضور آباد کے بجائے ساری ریاست میں عمل کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ کے سی آر نے دلت کو تلنگانہ کا پہلا چیف منسٹر مقرر کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن خود اس عہدہ پر فائز ہوگئے۔