بی جے پی کی مدد کا مجلس پر الزام، تلنگانہ میں کانگریس کی کامیابی یقینی، 3 اسمبلی حلقہ جات میں راہول گاندھی کا انتخابی ریالیوں سے خطاب
حیدرآباد۔/26 نومبر، ( سیاست نیوز) کانگریس قائد راہول گاندھی نے الزام عائد کیا کہ نریندر مودی اور چیف منسٹر کے سی آر کے درمیان پارٹنر شپ ہے اور دونوں مرکز و ریاست میں ایک دوسرے کی مدد کررہے ہیں تاکہ حکومتیں قائم رہیں۔ کانگریس کی اولین ترجیح تلنگانہ سے بی آر ایس کا خاتمہ ہے جس کے بعد مرکز سے مودی حکومت کو بیدخل کیا جائے گا۔کانگریس کی انتخابی مہم میں راہول گاندھی نے آج دوسرے دن اسمبلی حلقہ جات اندول، سنگاریڈی اور کاماریڈی میں انتخابی ریالیوں سے خطاب کیا۔ راہول گاندھی نے بی آر ایس، بی جے پی اور مجلس کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ تلنگانہ میں کانگریس نے بی جے پی کا خاتمہ کردیا ہے۔ بی جے پی قائدین کل تک تلنگانہ میں اکڑ کر گھوم رہے تھے لیکن کانگریس نے ان کی ہوا خارج کردی۔ بی جے پی کی گاڑی کے چاروں ٹائر پنکچر کرکے بی جے پی کا صفایا کردیا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور بی آر ایس کے ساتھ مجلس بھی مل چکی ہے۔ بی آر ایس نے ہر مرحلہ پر لوک سبھا میں مودی حکومت کی تائید کی۔ جی ایس ٹی، نوٹ بندی اور کسان بل کے معاملہ میں کے سی آر نے مودی کی تائید کی۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس اور بی جے پی میں اٹوٹ بندھن کا پتہ چلانے ای ڈی ، سی بی آئی اور انکم ٹیکس پر نظر رکھنی ہوگی۔ بی جے پی کے خلاف جدوجہد پر 24 مقدمات میرے خلاف درج کئے گئے۔ میرا گھر چھین لیا گیا ، لوک سبھا کی رکنیت ختم کردی گئی لیکن میں نے بی جے پی کے خلاف جدوجہد کو برقرار رکھا ۔ ہندوستان کے کروڑوں عوام کے دلوں میں میرا گھر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کے خلاف آج تک ایک مقدمہ بھی درج نہیں کیا گیا جو ثبوت ہے کہ دونوں پارٹیاں ایک ہیں۔ راہول گاندھی نے الزام عائد کیا کہ جہاں کہیں کانگریس بی جے پی کے خلاف مقابلہ کرتی ہے وہاں مجلس اپنے امیدوار کھڑا کردیتی ہے۔ انہوں نے راجستھان کی مثال پیش کی جہاں مجلس الیکشن میں حصہ لے رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ مجلس کے امیدواروں کا انتخاب بی جے پی سے کیا جاتا ہے۔ تلنگانہ میں کانگریس بی جے پی، بی آر ایس اور مجلس تینوں کو شکست دے گی۔ انہوں نے کہا کہ مودی ملک میں نفرت کا ماحول پھیلا رہے ہیں جبکہ ہندوستان بھائی چارگی کی علامت ہے اور یہاں نفرت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ راہول گاندھی نے کہا کہ کے سی آر نے 10 برسوں میں عوام سے جتنی رقم لوٹی ہے اسے عوام کے بینک کھاتوں میں کانگریس جمع کریگی۔ انہوں نے کانگریس کی 6 ضمانتوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ کابینہ کے پہلے اجلاس میں تمام ضمانتیں قانون بن جائیں گی۔ انہوں نے تلنگانہ حکومت کو ملک کی انتہائی کرپٹ حکومت قرار دیا اور کہا کہ علحدہ تلنگانہ کی تشکیل سے صرف ایک خاندان کو فائدہ پہنچا ہے۔ کے سی آر سوال کررہے ہیں کہ کانگریس نے کیا کیا ؟ کے سی آر جس سڑک پر چلتے ہیں، جس اسکول اور کالج میں انہوں نے تعلیم حاصل کی وہ کانگریس کے قائم کردہ ہیں۔ حیدرآباد میں آئی ٹی کی ترقی کانگریس کی دین ہے۔ حیدرآباد میں نوجوانوں سے ملاقات کا حوالہ دے کر راہول گاندھی نے کہا کہ نوجوان تعلیم پانے کے باوجود روزگار سے محروم ہیں اور انہیں وقفہ وقفہ سے امتحانی پرچوں کے افشاء سے ناانصافی کا دکھ ہے۔ عوام نے جس تلنگانہ کا خواب دیکھا تھا اسے کانگریس پورا کرے گی اور زمینداروں کی بجائے عوامی تلنگانہ تشکیل دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس برسراقتدار آتے ہی شفافیت سے تقررات ہونگے اور 2 لاکھ جائیدادوں پر تقررات کیلئے جاب کیلنڈر جاری کیا جائیگا۔ صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی، ڈپٹی چیف منسٹر کرناٹک ڈی کے شیو کمار اور نظام آباد ( اربن) کے امیدوار محمد علی شبیر نے بھی خطاب کیا۔ تینوں مقامات پر راہول گاندھی کے جلسوں میں عوام کی کثیر تعداد شریک تھی۔