پراجکٹ کے افتتاح کیلئے لاک ڈاؤن میں نرمی، چیف منسٹر پر جرمانہ عائد کرنے محمد علی شبیر کا مطالبہ
حیدرآباد۔/30 مئی، ( سیاست نیوز) قانون ساز کونسل کے سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے الزام عائد کیا کہ کونڈہ پوچما ساگر ذخیرہ آب کے افتتاح کیلئے کے سی آر نے تلنگانہ عوام کی زندگی کو داؤ پر لگادیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کالیشورم پراجکٹ سے مربوط اس ذخیرہ آب کی افتتاحی تقریب کے لئے کے سی آر نے ریاست بھر میں لاک ڈاؤن کی پابندیوں کو عملاً ختم کردیا حالانکہ لاک ڈاؤن کی پابندیوں کی برخاستگی کے ساتھ ہی ریاست میں کورونا کے کیسس میں زبردست اضافہ ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پراجکٹ کی افتتاحی تقریب سے عین قبل چیف منسٹر نے تمام تجارتی سرگرمیوں کی اجازت دے دی تاکہ یہ تاثر دیا جاسکے کہ ریاست میں کورونا کی صورتحال قابو میں ہے۔ حقیقت میں کے سی آر نے افتتاحی تقریب میں سینکڑوں افراد کی شرکت کو جائز قراردینے کیلئے یہ پابندیاں ختم کیں۔ پابندیوں کو ختم کرتے ہوئے 2000 سے زائد افراد افتتاحی تقریب میں شریک ہوئے جس میں سماجی فاصلہ کا کوئی خیال نہیں رکھا گیا۔ چیف منسٹر کے بشمول وزراء اور عہدیداروں نے ماسک کا استعمال نہیں کیا۔ ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے عام حالات میں افتتاحی تقریب ہورہی ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ کے سی آر اپنی تشہیر کیلئے کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ انہوں نے اپنی شہرت کیلئے عوام کی زندگی کو خطرہ میں ڈال دیا ہے اور دن بہ دن کورونا کے کیسس میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ کورونا سے نمٹنے سے زیادہ چیف منسٹر کو کالیشورم پراجکٹ کی فکر ہے تاکہ کنٹراکٹرس سے کمیشن حاصل کیا جاسکے۔ کے سی آر نے ابتدا میں کہا تھا کہ عوام کی زندگی ان کیلئے اہمیت کی حامل ہے لیکن اب وہ اپنے عمل سے یو ٹرن لے چکے ہیں اور عوامی زندگی کی کوئی اہمیت نہیں ہے اپنی شہرت کیلئے عوام کی زندگی کو خطرہ میں ڈالنا ساڑھے تین کروڑ تلنگانہ عوام کے ساتھ دھوکہ ہے۔ اگر لاک ڈاؤن کی رعایتیں نہیں دی جاتیں تو چیف منسٹر دو ہزار افراد کے ساتھ افتتاحی تقریب میں شریک نہ ہو پاتے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ جب ماسک کے عدم استعمال پر عام افراد کو ایک ہزار روپئے کا جرمانہ کیا جارہا ہے تو پھر چیف منسٹر، وزراء اور عہدیداروں کو بھی جرمانہ کیا جانا چاہیئے جو قانون کی نظر میں عام شہری کی طرح ہیں۔محمد علی شبیر نے کہا کہ آنے والے دنوں میں کورونا کیسس میں مزید اضافہ اور اموات کیلئے کے سی آر ذمہ دار ہوں گے۔