کانگریس اور بی جے پی کو کمزور کرنے کی منصوبہ بندی، پنڈتوں اور نجومیوں کے مشورہ پر مکمل فہرست کی اجرائی، باغیوں سے خطرہ برقرار
حیدرآباد۔/22 اگسٹ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی انتخابات کیلئے بی آر ایس امیدواروں کی پہلی فہرست کے ذریعہ پارٹی سربراہ کے چندر شیکھر راؤ نے جان بوجھ کر جوکھم مول لیا ہے اور وہ اس جوکھم کے ذریعہ اپوزیشن کانگریس اور بی جے پی کو انتخابی مہم میں ہر سطح پر کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ کے سی آر نے پارٹی کے امکانات کا جائزہ لینے کیلئے نہ صرف پرشانت کشور جیسے ماہرین کی خدمات حاصل کی تھی بلکہ اسمبلی حلقہ جات کی سطح پر سروے کا اہتمام کیا تھا۔ سروے کے مطابق بی آر ایس کو 35 تا 40 نشستوں پر سخت مقابلہ یا پھر ناکامی کی پیش قیاسی کی گئی تھی جس کے بعد کے سی آر نے عدم کارکردگی کے حامل ارکان اسمبلی کی فہرست تیار کی تاکہ انہیں ٹکٹ سے محروم کیا جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ کے سی آر نے دلت بندھو اور دیگر سرکاری اسکیمات میں کمیشن کے حصول کے الزامات کا سامنا کرنے والے ارکان کی جگہ متبادل امیدواروں کی فہرست تیار کرلی تھی۔ توقع کی جارہی تھی کہ کے سی آر پہلے مرحلہ میں 50 امیدواروں کی فہرست جاری کریں گے لیکن نجومیوں اور پنڈتوں کے مشورہ پر انہوں نے ایک ہی وقت میں 115 امیدواروں کی فہرست جاری کردی۔ بتایا جاتا ہے کہ نجومیوں نے ستمبر میں فہرست کی اجرائی کو بدشگونی سے تعبیر کیا تھا اور اگسٹ میں مکمل فہرست جاری کرنے کی صلاح دی تھی۔ کے سی آر کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ سیاسی نکتہ نظر سے 102 سیٹنگ ارکان میں 93 کو دوبارہ ٹکٹ دینے کا فیصلہ جان بوجھ کر جوکھم حاصل کرنا ہے اور کے سی آر کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ عوامی سطح پر بھلے ہی پارٹی کمزور ہو لیکن وقت سے پہلے امیدواروں کے اعلان کے ذریعہ کے سی آر کانگریس اور بی جے پی کو انتخابی مہم میں مصروف کرنا چاہتے ہیں تاکہ طویل مدتی مہم کے نتیجہ میں عین الیکشن قبل دونوں پارٹیوں کے وسائل ختم ہوجائیں اور الیکشن میں برسراقتدار پارٹی دولت کے بھرپور استعمال کے ذریعہ کامیابی حاصل کرلے۔ انتخابات میں فنڈز کے خرچ کے معاملہ میں ملک بھر میں بی آر ایس نے ریکارڈ بنایا ہے۔ اسمبلی کے ضمنی چناؤ میں ایک ایک نشست کیلئے 150 تا 200 کروڑ خرچ کئے گئے تھے۔ اب جبکہ عام انتخابات کے سی آر کیلئے کرو یا مرو کی صورتحال کی طرح ہیں لہذا تیسری مرتبہ کامیابی کیلئے کے سی آر کو فنڈز پر زیادہ بھروسہ دکھائی دے رہا ہے۔ فہرست کی کی قبل از وقت اجرائی کا مقصد کانگریس اور بی جے پی کو انتخابی سرگرمیوں اور امیدواروں کے انتخاب میں مصروف کرنا ہے تاکہ عوام کے درمیان فنڈز کے خرچ کا سلسلہ شروع ہوجائے۔ کے سی آر کو یقین ہے کہ آئندہ دو ڈھائی ماہ تک اپوزیشن قائدین رائے دہندوں پر بھاری خرچ کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے ابھی تک انتخابی شیڈول جاری نہیں کیا گیا لیکن کے سی آر نے فہرست کی اجرائی کے ذریعہ ریاست میں انتخابی ماحول پیدا کردیا ہے۔ پارٹی میں ناراضگی کے باوجود انہوں نے کانگریس سے انحراف کرنے والے12 ارکان اسمبلی کو دوبارہ ٹکٹ دیا ہے۔ آصف آباد سے اے سکو کو محروم کیا گیا ان کی جگہ ضلع پریشد چیرپرسن کے لکشمی کو ٹکٹ دیا گیا۔ اے سکو نے 2018 میں کانگریس کے ٹکٹ پر کامیابی کے بعد بی آر ایس میں شمولیت اختیار کی تھی۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ قبل از وقت فہرست کی اجرائی سے کانگریس اور بی جے پی کو مضبوط ناراض قائدین بطور امیدوار حاصل ہوجائیں گے خاص طور پر بی جے پی کو فائدہ ہوگا جس کے لئے تمام اسمبلی حلقہ جات میں امیدوار دستیاب نہیں ہیں۔ آئندہ چند ہفتے بی آر ایس کیلئے انتہائی صبر آزما اور فیصلہ کن ثابت ہوں گے جب ٹکٹ سے محروم قائدین اپنے پتے کھولیں گے۔
