کے سی آر نے کانگریس کی 6 ضمانتوں کی نقل کی: ریونت ریڈی

   

چیف منسٹر کیلئے آرام کا وقت، شراب اور دولت کے استعمال پر کل یادگار شہیدان تلنگانہ پر قسم کھانے کا چیلنج

حیدرآباد۔/15اکٹوبر، ( سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر کے سی آر نے کانگریس کی 6 ضمانتوں کی نقل کرتے ہوئے اسے بی آر ایس کے انتخابی منشور میں شامل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر یادداشت سے محروم ہوچکے ہیں اور انہیں اب آرام کی ضرورت ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کے سی آر کو چیلنج کیا ہے کہ وہ 17 اکٹوبر کو 12 بجے دن شہیدان تلنگانہ کی یادگار واقع نیکلس روڈ پہنچ کر انتخابی مہم میں دولت اور شراب کا استعمال نہ کرنے کا عہد کریں۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ وہ بھی عہد کرنے کیلئے تیار ہیں تاکہ تلنگانہ میں حقیقی معنوں میں عوام کا فیصلہ منظر عام پر آئے۔ کے سی آر نے کانگریس پر دولت کے استعمال کا الزام عائد کیا ہے اور اگر ان میں ہمت ہو تو وہ قسم کھانے کیلئے یادگار شہیدان تلنگانہ پہنچیں۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ کے سی اور ان کے قائدین نے کانگریس کی 6 ضمانتوں کے بارے میں کہا تھا کہ ان پر عمل نہیں کیا جاسکتا لیکن آج کانگریس کی ضمانتوں کو بی آر ایس نے اپنے منشور کا حصہ بنایا ہے لہذا بی آر ایس قائدین کانگریس سے سوال کرنے کے اخلاقی حق سے محروم ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی کے نزدیک بی آر ایس کا انتخابی منشور ردی کے کاغذ کے سوا کچھ نہیں ہے اور اس پر بحث کی کوئی ضرورت نہیں۔ مہا لکشمی اسکیم کے تحت کانگریس نے غریب خواتین کو 2500 روپئے کا اعلان کیا تھا جسے کے سی آر نے 3 ہزار روپئے کردیا۔ کانگریس نے 500 روپئے میں گیس سلینڈر کا اعلان کیا جسے کے سی آر نے 400 روپئے کردیا۔ کانگریس نے 4 ہزار پنشن کا تیقن دیا جسے کے سی آر نے 5 ہزار روپئے کردیا۔ کانگریس نے کسانوں کیلئے 15 ہزار کی امدادی اسکیم کا وعدہ کیا جسے کے سی آر نے 16 ہزار کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل تیسری مرتبہ کے سی آر نے کانگریس کے انتخابی منشور کی نقل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس کا انتخابی منشور کسی سنجیدہ ذہنیت کے بغیر ہی تیار کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کامیابی کیلئے کانگریس کے منشور کی نقل کرنے سے بی آر ایس کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ کانگریس اپنے تیقنات پر عمل کرنے کا عزم رکھتی ہے اور کبھی بھی اس نے دوسروں کی نقل نہیں کی۔ ریونت ریڈی نے پارٹی امیدواروں کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ ہمارے امیدواروں کے اعلان کے ساتھ ہی کے سی آر نے اپنے امیدواروں میں بی فارم تقسیم کئے۔ کانگریس نے 55 امیدواروں کی فہرست جاری کی اور کے سی آر نے صرف 51 امیدواروں کو بی فارم حوالے کیا۔ انہوں نے کے ٹی آر اور ہریش راؤ تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ کانگریس کو بے بنیاد الزامات کے ذریعہ کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے دولت اور شراب کے استعمال کے بغیر کے سی آر کی کامیابی کے دعوؤں کو مسترد کردیا اور اس سلسلہ میں 17 اکٹوبر کو قسم کھانے کا چیلنج کیا۔ انہوں نے کہا کہ پونالہ لکشمیا نے عجلت میں سیاسی خودکشی کرلی ہے۔ جنگاؤں سے فہرست میں ان کا نام موجود تھا۔ کانگریس نے ٹکٹ سے محروم قائدین کو سمجھانے کیلئے کے جانا ریڈی، دیپا داس منشی ، میناکشی نٹراجن اور مانک راؤ ٹھاکرے پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی ہے جو مختلف قائدین سے ملاقات کررہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کسان، نوجوانوں، خواتین کے ڈیکلریشن اور 17 ستمبر کو 6 ضمانتوں کے اعلان سے کانگریس کا انتخابی منشور عوام کے درمیان آچکا ہے۔