کے سی آر کو آر ٹی سی ہڑتال اور کے ٹی آر کو بلدی مسائل سے دلچسپی نہیں

   

شہر میں سڑکیں تباہ،میئر اور کمشنر فرائض کی ادائیگی میں ناکام: محمد علی شبیر

حیدرآباد۔22 ۔ اکٹوبر(سیاست نیوز) سابق وزیر محمد علی شبیر نے کہا کہ تلنگانہ پر حکمرانی کرنے والے باپ بیٹے عوامی مسائل کی یکسوئی میں ناکام ہوچکے ہیں۔ کے سی آر کو آر ٹی سی ہڑتال کی کوئی فکر نہیں تو کے ٹی آر شہر میں بارش اور تباہ حال سڑکوں کے بارے میں بے پرواہ ہوچکے ہیں۔ بارش کی تباہ کاریوں پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد عوام کو امید تھی کہ حقیقی معنوں میں سنہرا تلنگانہ وجود میں آئے گا لیکن کے سی آر نے جمہوری اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے خاندان کی حکمرانی مسلط کردی۔ انہوں نے کہا کہ ایک خاندان کی بھلائی اور اس کے مفادات کی تکمیل حکومت کا مقصد بن چکا ہے۔ گزشتہ 6 برسوں میں عوامی مسائل کو نظرانداز کردیا گیا۔ تلنگانہ تحریک اور انتخابات کے دوران منشور میں عوام کو سبز باغ دکھائے گئے لیکن اقتدار ملتے ہی ایک بھی وعدہ پورا نہیں کیا گیا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ آر ٹی سی ہڑتال 19 دن مکمل کرچکی ہے اور ہزاروں ملازمین اپنی ملازمت اور تنخواہوں کے بارے میں فکرمند ہیں۔ کئی ملازمین کی صدمہ سے موت واقع ہوگئی جبکہ دو ملازمین نے حکومت کے رویہ کے خلاف بطور احتجاج خودکشی کرلی۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کو 50,000 خاندانوں کی بھلائی کی کوئی فکر نہیں ہے جو ستمبر کی تنخواہ سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہڑتال کے سبب عوام کو جو دشواریاں پیش آرہی ہیں، اس کا جائزہ لینے کے بجائے چیف منسٹر ہٹ دھرمی کا رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ چیف منسٹر کا یہ رویہ صورتحال کو مزید سنگین بناسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل کے سلسلہ میں کے سی آر کا یہ رویہ ہے تو دوسری طرف ان کے فرزند کے ٹی راما راؤ شہر میں بنیادی بلدی سہولتوں کی فراہمی میں ناکام ہوچکے ہیں۔ پہلی میعاد میں کے ٹی آر نے حیدرآباد کو سنگا پور اور استنبول کی طرز پر ترقی دینے کا وعدہ کیا تھا۔ حیدرآباد کی ترقی کے لئے 100 دن کا ایکشن پلان بھی جاری ہوا لیکن حیدرآباد کی پسماندگی میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے ۔ مانسون کی آمد کے ساتھ ہی حکومت کے دعوؤں کی خلائی کھل گئی۔ انہوں نے کہا کہ معمولی بارش کے نتیجہ میں شہر میں ٹریفک کا درہم برہم ہونا معمول بن چکا ہے ۔ شہر کی سڑکیں تباہ ہوچکی ہیں لیکن عوامی تکالیف کا کوئی پرسان حال نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر اور کے ٹی آر کو اپنے رویہ پر عوامی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ مانسون کے دوران سڑکوں کی تباہی اور جگہ جگہ پانی جمع ہونے سے جو مشکلات پیش آئیں، ان کا شخصی طور پر جائزہ لینے کی کے ٹی آر نے زحمت نہیں کی۔ وزیر بلدی نظم و نسق کی حیثیت سے ان کی ذمہ داری تھی کہ وہ شخصی طور پر صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کرتے۔ محمد علی شبیر نے افسوس کا اظہار کیا کہ موجودہ کمشنر گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن اور میئر بھی اپنے فرائض کی تکمیل میں ناکام ثابت ہوئے ہیں، انہوں نے کسی بھی علاقہ کا دورہ کرتے ہوئے عوامی مسائل کا جائزہ نہیں لیا۔