کیپٹن لکشمی کانت راؤ سے چیف منسٹر کی مشاورت ، راجندر کے حامیوں کو واپس لانے کی کوشش
حیدرآباد۔ چیف منسٹر کے سی آر نے سابق وزیر صحت ایٹالہ راجندر سے حضور آباد میں مقابلہ کیلئے مضبوط امیدوار کی تلاش شروع کردی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے اپنے بااعتماد رفقاء سے حضور آباد امکانی امیدوار کے بارے میں مشاورت کی۔ راجندر اگر اسمبلی کی رکنیت سے استعفی دیتے ہیں تو اس حلقہ میں ضمنی چناؤ ہوگا۔ راجندر نے کابینہ سے برطرفی کے بعد مختلف جماعتوں کے قائدین سے ملاقاتوں کا آغاز کیا لیکن اسمبلی کی رکنیت سے استعفی کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ راجندر کا شمار کے سی آر کے بااعتماد رفقاء میں ہوتا رہا جو 2001 میں پارٹی کے قیام سے وابستہ تھے۔ حالیہ عرصہ میں بعض اُمور پر قیادت سے اختلافات کے بعد انہوں نے متنازعہ بیانات دیئے تھے جس کے بعد چیف منسٹر نے انہیں کابینہ سے برطرف کردیا۔ ان کے خلاف اراضی پر قبضہ کے 3 علحدہ معاملات کی جانچ جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق کے سی آر حضورآباد حلقہ سے بااعتماد رفیق رکن راجیہ سبھا کیپٹن لکشمی کانت راؤ کو امیدوار بنانے پر غور کررہے ہیں۔ حالیہ دورہ ورنگل کے موقع پر چیف منسٹر نے لکشمی کانت راؤ سے ملاقات کی تھی جس کے بعد یہ قیاس آرائیاں تیز ہوچکی ہیں کہ کیپٹن لکشمی کانت راؤ کو حضورآباد سے امیدوار بنایا جائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر ضمنی چناؤ میں لکشمی کانت راؤ کی اہلیہ سروجنی دیوی کو امیدوار بناکر انتخابی مہم کی ذمہ داری لکشمی کانت راؤ کے سپرد کریں گے۔ چیف منسٹر نے ورنگل میں تقریباً 2 گھنٹوں تک لکشمی کانت کی قیامگاہ میں قائدین سے ملاقات کی تھی۔ لکشمی کانت راؤ نہ صرف ورنگل بلکہ کریم نگر میں خاصی مقبولیت رکھتے ہیں۔ وہ سابق وزیراعظم پی وی نرسمہا راؤ کے رشتہ دار بھی ہیں۔ اسی دوران ٹی آر ایس نے حضورآباد میں راجندر کے حامیوں کو پارٹی میں واپس لانے کی مہم شروع کردی ہے۔ وزیر فینانس ہریش راؤ اور نائب صدرنشین پلاننگ بورڈ بی ونود کمار مختلف منڈلوں سے تعلق رکھنے والے عوامی نمائندوں سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں راجندر کیمپ سے نکال کر ٹی آر ایس کیمپ میں شامل کرنے میں مصروف ہیں۔