تلنگانہ میں کانگریس اور مرکز میں ’ انڈیا ‘ اتحاد کی حکومت قائم ہوگی ۔ کے سی آر ‘ نریندر مودی کو بچانے کیلئے کوشاں۔ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کا خطاب
حیدرآباد 26 اگسٹ ( سیاست نیوز ) صدر کل ہند کانگریس کمیٹی ملیکارجن کھرگے نے کہا کہ کے سی آر حکومت کے پاپ کا گھڑا بھرچکا ہے ۔ کوئی طاقت تلنگانہ میں حکومت بنانے سے کانگریس کو روک نہیں سکتی ، اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے کے سی آر بی جے پی کا دامن تھام چکے ہے ۔ باوجود اس کے بی آر ایس حکومت کی الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے ۔ نریندر مودی کو اقتدار سے بیدخل کرنے تمام سیکولر جماعتیسں متحد ہوچکی ہیں تاہم کے سی آر ’ انڈیا اتحاد ‘ سے دور رہ کر مودی کو بچانے کی کوشش کررہے ہیں مگر دونوں کو ناکامی ہوگی ۔ تلنگانہ میں کانگریس مرکز میں انڈیا اتحاد کی حکومت قائم ہوگی ۔ ’چیوڑلہ گرجنا ‘ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ اس موقع پر کانگریس نے 12 نکات پر مشتمل ایس سی ، ایس ٹی ڈیکلریشن کا اعلان کیا اور کانگریس کو اقتدار حاصل ہوتے ہی ان وعدوں پر عمل کرنے کا اعلان کیا ۔ کھرگے نے کہا کہ کانگریس عوامی مفادات کا تحفظ کرنے ملک کو فرقہ پرستی کے ماحول سے نجات دلانے نفرت کے بازار میں محبت باٹنے کاکام کررہی ہے ۔ کانگریس کا یہ پیغام ملک بھر میں بڑے احترام سے قبول کیا جارہا ہے ۔ کرناٹک میں کانگریس کی حکومت قائم ہوئی ۔ انتخابات میں عوام سے جن 5 وعدے کئے گئے تھے ان پر عمل آوری شروع کردی گئی ہے ۔ تلنگانہ کے بشمول جن پانچ ریاستوں میں انتخابات ہونے والے ہیں وہاں کانگریس کی حکومتیں قائم ہونگی اور عوام سے تمام وعدوں کو پورا کیا جائیگا ۔ تلنگانہ کے عوام کے سی آر سے ملک کے عوام مودی سے بدظن ہوچکے ہیں ۔ کے سی آر اور مودی نے ملک اور تلنگانہ کو لوٹ لیا ہے عوام سے کئے گئے کسی بھی وعدوں کو پورا نہیں کیا ۔ خاندان اور کارپوریٹس کو فائدہ پہنچاکر غریب عوام سے دھوکہ دہی اور ناانصافی کی ہے ۔ اب اس کا حساب چکتا کرنے کا وقت آگیا ہے ۔ انتخابات سے قبل کے سی آر کو شکست کا احساس ہوگیا ہے ۔ ڈوبتی کشتی کو کنارے لگانے بی جے پی کا ساتھ لیا جارہا ہے ۔ تاہم کے سی آر کو شکست ہوگی اور کانگریس بھاری اکثریت سے اقتدار حاصل کریگی ۔ ملکارجن کھرگے نے کہا کہ سونیا گاندھی نے کانگریس کو سیاسی نقصان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے تلنگانہ عوام کے جذبات کا احترام کیا اور علحدہ تلنگانہ تشکیل دیا ۔ عوام کیلئے تشکیل دی گئی ریاست پر ایک خاندان نے حکمرانی کرکے سماج کے تمام طبقات کو نقصان پہونچایا ہے ۔ کانگریس صدر نے کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کل کھمم میں جلسہ خطاب کرنے والے ہیں کانگریس ملک کیلئے کچھ بھی نہیں کیا ہے کا الزام لگائینگے ۔ بی آر ایس اور بی جے پی کے درمیان اتحاد ہوگیا ہے ۔ لہذا وہ بی آر ایس کو تنقید کا نشاند نہیں بنائینگے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ آئی آئی ٹی ۔ ایمس کس نے قائم کیا ہے ۔ کانگریس حکومت میں جو پبلک سکیٹرس قائم تھے ان کو فروخت کیا جارہا ہے ۔ ملک میں آبپاشی پراجکٹس کون تعمیر کئے اس کا جواب دیا جانا چاہئے ۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے ایس سی ، ایس ٹی ڈیکلریشن پڑھ کر سناتے ہوئے کہاکہ جن 12 نکات کو ڈیکلریشن میں شامل کیا گیا کانگریس کو اقتدار ملتے ہی اس پر عمل کیا جائیگا ۔ اندرا ماں اسکیم کے تحت بے گھر ایس سی ، ایس ٹی طبقات کو مکانات کی تعمیر کیلئے اراضی دی جائیگی ۔ دلت بندھو اسکیم کی رقم کو 12 لاکھ روپئے کردیا جائیگا ۔ اقتدار ملتے ہی ایس سی طبقہ کو 18 فیصد اور ایس ٹی طبقہ کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا فیصلہ کیا جائیگا ۔ ایس سی طبقات کی زمرہ بندی کی جائیگی ۔ امبیڈکر ابھئے مہم کے تحت ایس سی ، ایس ٹی خاندان کو 12 لاکھ روپئے کی مالی امداد کی جائیگی ۔ کنٹراکٹ ایس سی ایس ٹی طبقات کو کوٹہ فراہم کیا جائیگا۔ ایس سی ، ایس ٹی طبقات کیلئے 3 کارپوریشنس قائم ہونگے ۔ ہر کارپوریشن کو سالانہ 500 کروڑ روپئے مختص کئے جائینگے ۔ ریاست میں 5 نئے آئی ٹی ڈی سی قائم کئے جائینگے ۔ دسویں کامیاب ایس سی ایس ٹی طلبہ کیلئے 10 ہزار روپئے مالی امداد دی جائیگی ۔ ہر منڈل میں ایک گروکل اسکول قائم کیا جائیگا ۔ گریجویشن پی جی تعلیم پانے والے ایس ایس ٹی طلبہ کیلئے ہاسٹلس کی سہولت فراہم کی جائیگی ۔ ن
