کے سی آر کو نوٹس سیاسی نہیں بلکہ قانونی کارروائی : مہیش کمار گوڑ

   

تلنگانہ تحریک کے قائد کی حیثیت سے احترام، فون ٹیاپنگ کے ذمہ داروں کا پتہ چلانا ضروری
حیدرآباد 29 جنوری (سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ نے وضاحت کی کہ فون ٹیاپنگ معاملہ کی جانچ کے لئے بی آر ایس سربراہ کے سی آر کو نوٹس کی اجرائی کوئی سیاسی کارروائی نہیں ہے۔ فون ٹیاپنگ معاملہ میں حقائق کا پتہ چلانے کے لئے خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے یہ نوٹس جاری کی ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے مہیش کمار گوڑ نے کہاکہ جب تک مقدمہ سے وابستہ تمام افراد کی جانچ نہیں کی جاتی، اُس وقت تک جامع تحقیقات مکمل نہیں ہوں گی۔ اُنھوں نے کہاکہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم نے قانون کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے کے سی آر کو نوٹس جاری کی ہے۔ سیاسی انتقامی کارروائی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مہیش کمار گوڑ نے کہاکہ اُس وقت کے چیف منسٹر اور وزراء کی مرضی کے بغیر یہ کام نہیں کیا جاسکتا۔ اُنھوں نے کہاکہ پولیس نے اُس وقت کے برسر اقتدار افراد کی ہدایت پر ہی اہم شخصیتوں کے ٹیلیفون ٹیاپ کئے تھے۔ اُنھوں نے کہاکہ ایس آئی ٹی تحقیقات میں انکشاف ہوگا کہ فون ٹیاپنگ کے حقیقی ذمہ دار کون ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ اِس معاملہ میں شفافیت کے ساتھ تحقیقات جاری ہیں۔ بی آر ایس دور حکومت میں 500 سے زائد افراد کے ٹیلیفون ٹیاپ کئے گئے تھے۔ اُنھوں نے کہاکہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم حقائق کا پتہ چلانے کے لئے کسی کو بھی نوٹس دے سکتی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ تلنگانہ عوام خود بھی جاننا چاہتے ہیں کہ فون ٹیاپنگ کے پس پردہ کون کارفرما ہیں۔ مہیش کمار گوڑ نے کہاکہ وہ تلنگانہ تحریک کے قائد کی حیثیت سے سابق چیف منسٹر کے سی آر کا احترام کرتے ہیں تاہم بی آر ایس دور حکومت میں فون ٹیاپنگ کے ذمہ داروں کا پتہ چلانا بھی ضروری ہے۔ اُنھوں نے یقین ظاہر کیاکہ ایس آئی ٹی کی تحقیقات میں حقیقی خاطیوں کا پتہ چلے گا۔ بی آر ایس قائدین کی جانب سے نوٹس کے لئے حکومت کو نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہوئے صدر پردیش کانگریس نے کہاکہ تحقیقات میں حکومت کا کوئی رول نہیں ہے اور تحقیقاتی ٹیم کو مکمل آزادی دی گئی ہے۔ کانگریس حکومت سیاسی انتقامی کارروائی پر یقین نہیں رکھتی اور قانون کے مطابق تحقیقاتی عمل جاری ہے۔ تحقیقات کے ضمن میں جن افراد کی گرفتاری یا پھر جن کے بیانات قلمبند کئے گئے اُس کی بنیاد پر ایس آئی ٹی نے مزید افراد سے پوچھ تاچھ کا فیصلہ کیا ہے۔ اِسی دوران مہیش کمار گوڑ اور ریاستی وزیر اتم کمار ریڈی نے گاندھی بھون میں متحدہ نظام آباد ضلع کے قائدین کے ساتھ اجلاس میں مجالس مقامی کے امیدواروں کے انتخاب کا جائزہ لیا۔ اجلاس میں تلنگانہ انچارج میناکشی نٹراجن موجود تھیں۔1