کے سی آر کو چیف منسٹر کے عہدہ پر برقراری کا حق نہیں

   


ٹی آر ایس کے کئی قائدین کی بی جے پی میں شمولیت، رکن پارلیمنٹ ڈی اروند کا بیان
حیدرآباد۔ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ڈی اروند نے الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ تلنگانہ عوام کے اعتماد سے محروم ہوچکے ہیں۔ انہوں نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت مرکزی اسکیمات کو اختیار کرنے کیلئے مجبور ہوچکی ہے کیونکہ مرکزی اسکیمات میں عوام کو زیادہ فائدہ ہے۔ ٹی آر ایس کے قائدین اس بات کا اعتراف کررہے ہیں کہ کے سی آر کی مقبولیت میں کمی آئی ہے۔ پارٹی قائدین بھی چیف منسٹر کے رویہ سے خوش نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نظام آباد ضلع سے تعلق رکھنے والے کئی سرپنچ، ایم پی ٹی سی ، زیڈ پی ٹی سی اور مارکٹ کمیٹی کے سابق صدورنشین نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ ٹی آر ایس کے کئی قائدین بی جے پی میں شمولیت کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدرنشین قانون ساز کونسل نے کے ٹی آر کو چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز کرنے کی تجویز پیش کی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ کے سی آر اب اس عہدہ کے اہل نہیں رہے۔ انہوں نے کہا کہ بنڈی سنجے کی قیادت میں 2023 میں تلنگانہ میں بی جے پی حکومت کا قیام یقینی ہے۔ بی جے پی نے تلنگانہ میں تیزی سے عوامی تائید حاصل کرلی ہے اور صرف 9 ماہ کی مدت میں بی جے پی نے ٹی آر ایس کے متبادل کے طور پر عوام کے درمیان خود کو پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر ریاست کی بی جے پی قیادت سے خوفزدہ ہیں اور وہ آئندہ تین برسوں میں بنڈی سنجے سے نمٹنے کی حکمت عملی کے بارے میں پریشان ہیں۔