کے سی آر کو 40 سال بعد شکست کا سامنا

   

1983 میں پہلی ناکامی ۔ 2023 میں دوسری بار ہار کا سامنا
حیدرآباد 4 ڈسمبر (سیاست نیوز) سربراہ بی آر ایس کے سی آر کو 40 سال بعد انتخابی شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔ وہ 1983 کے بعد پہلی مرتبہ شکست سے دوچار ہوئے ہیں۔ حلقہ کاماریڈی سے انہیں بی جے پی امیدوار نے شکست دی ۔ کے سی آر نے پہلی مرتبہ 1983 میں آزاد امیدوار کی حیثیت سے سدی پیٹ سے مقابلہ کیا تھا جہاں انہیں ناکامی ہوئی تھی ۔ اس کے بعد تقریبا ہر انتخاب میں وہ کامیاب رہے ۔ تحریک تلنگانہ کے دوران انہوں نے عہدوں سے مستعفی ہوکر انتخابات میں حصہ لیا تھا ۔ کے سی آر نے تلنگانہ کی عزت نفس اور وقار کے نام پر تحریک کے دوران ایک سے زائد مرتبہ انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔2023 انتخابات میں کے سی آر نے حلقہ گجویل کے علاوہ کاماریڈی سے مقابلہ کرکے سب کو حیرت میں مبتلاء کردیا تھا لیکن ابتداء سے یہ دعویٰ کیا جا رہاتھا کہ انہیں دونوں نشستوں پر کامیابی ملے گی اور کسی ایک نشست سے وہ مستعفی ہونگے لیکن کاما ریڈی سے کے سی آر کی ناکامی ان کی دوسری شکست ہے جس کاانہوں نے سامنا کیا ہے۔جنوبی ہند کی کسی ریاست میں تیسری معیاد کیلئے کوئی چیف منسٹر نہ بننے کے ریکارڈ کو ختم کرکے تیسری بار چیف منسٹر بننے کا خواب دیکھ رہے کے سی آر کو نہ صرف ریاست میں اقتدار سے محروم ہونا پڑا ہے بلکہ ایک حلقہ اسمبلی سے وہ شکست کھاچکے ہیں جو ان کیلئے تکلیف دہ تصور کیا جا رہاہے۔بتایاجاتا ہے کہ کے سی آر اقتدار سے محرومی اور کاماریڈی سے شکست پر کافی دلبرداشتہ ہیں اسی لئے انہوں نے نتائج کے بعد عوام میںآنے سے گریز کیا ہے۔