بلز کی منظوری کیلئے راج بھون پر نظریں، گورنر کوٹہ کے ایم ایل سی امیدواروں کے بارے میں الجھن برقرار، سیاسی قائدین کی نامزدگی پر سوال
حیدرآباد۔/27 اگسٹ، ( سیاست نیوز) گورنر ڈاکٹر ٹی سوندرا راجن اور چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کے درمیان کشیدگی کے خاتمہ کے باوجود حکومت کی نظریں راج بھون پر ٹکی ہیں جہاں کئی سرکاری بلز و کونسل کیلئے 2 امیدواروں کے نام زیر التواء ہیں۔ گذشتہ تقریباً دیڑھ سال سے راج بھون اور پرگتی بھون میںماحول کشیدہ ہے اور سرکاری تقاریب میں گورنر کو مدعو کرنے کی روایت ختم کردی گئی تھی۔ چیف منسٹر کے سی آر نے راج بھون پروگراموں کا عملاً بائیکاٹ شروع کردیا تھا۔ کئی سرکاری بلز کی منظوری میں گورنر کے اعتراضات نے حکومت کی مشکلات میں اضافہ کردیا تھا۔ بلز کی منظوری کیلئے حکومت کو سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑا جس کے بعد گورنر نے بعض بلز کو منظوری دی اور بعض دوسرے نظرِ ثانی کیلئے حکومت کو روانہ کردیئے۔ کشیدگی ختم کرنے حکومت سے بارہا مساعی کی گئی لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ گورنر نے عوامی مسائل کی راست سماعت شروع کی اور کئی اضلاع کا دورہ کرکے عوام سے ملاقات کی۔ حالیہ اسمبلی اجلاس کے دوران آر ٹی سی کے حکومت میں انضمام سے متعلق بل کی راج بھون سے کلیرنس میں حکومت کو کافی مشقت کرنی پڑی ۔ گورنر نے 10 تجاویز کے ساتھ بل کو اسمبلی میں پیش کرنے کی اجازت دی اور اجلاس کے آخری دن آر ٹی سی انضمام بل منظور کیا گیا۔ یہ بل دوبارہ راج بھون میں منظوری کا منتظر ہے اس کے علاوہ گورنر کوٹہ کیلئے حکومت سے دو ناموں ڈی شراون و ست نارائنا کی سفارش کی لیکن آج تک منظوری نہیں ملی ۔ نئے چیف جسٹس ہائی کورٹ الوک ارادھے کی حلف برداری تقریب نے اچانک کشیدگی کا خاتمہ کردیا اور گورنر اور چیف منسٹر نے علحدگی میں بات کی۔ اس موقع پر چیف منسٹر نے گورنر کو عبادت گاہوں کے افتتاح اور سکریٹریٹ کے معائنہ کی دعوت دی۔ جمعہ کو عبادت گاہوں کے افتتاح کیلئے جب ڈاکٹر سوندرا راجن سکریٹریٹ پہنچیں تو ان کا شایان شان استقبال کیا گیا اور ایسا محسوس ہورہا تھا کہ تقرر کے بعد گورنر پہلی مرتبہ حیدرآباد پہنچی ہیں۔ چیف منسٹر نے تینوں عبادت گاہوں کا ربن گورنر کے ہاتھوں کٹواکر انہیں کافی خوش کردیا۔ وہاں سے گورنر پہلی مرتبہ سکریٹریٹ پہنچیں جبکہ اپریل میں سکریٹریٹ کے افتتاح کے موقع پر گورنر کو دعوت نامہ تک نہیں دیا گیا تھا۔ گورنر سے کشیدگی کے خاتمہ کے بعد حکومت کو امید ہے کہ بہت جلد گورنر آر ٹی سی انضمام بل اور گورنر کوٹہ کے ایم ایل سی ناموں کو منظوری دیں گی۔ تقریب کے تین دن بعد بھی گورنر نے تاحال بلز پر کوئی فیصلہ نہیں کیا جس کے سبب سرکاری حلقوں میں الجھن ہے۔ حکومت کو امید ہے کہ گورنر کونسل کیلئے سفارش کردہ ناموں کو منظوری دینگی جبکہ راج بھون ذرائع کے مطابق گورنر سیاسی قائدین کو اپنے کوٹہ کے تحت نامزد کرنے تیار نہیں ہیں۔ دوسری طرف گورنر نے آر ٹی سی انضمام بل پر قانونی رائے طلب کی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ گورنر سے خوشگوار روابط حکومت کی مجبوری ہیں اور گورنر سے فوری تبدیل ہونے کی امید نہیں کی جاسکتی۔ برسراقتدار پارٹی قائدین نے گورنر پر سنگین الزامات عائد کئے تھے اور اس پس منظر میں گورنر سے حکومت کے ہر فیصلہ کو تسلیم کرنے کی توقع کرنا عجلت ہوگی۔ اپوزیشن قائدین گورنر سے چیف منسٹر کی ملاقات کو بی جے پی سے مفاہمت کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ گورنر کے رویہ میں واقعی تبدیلی آئیگی یا چیف منسٹر کی مساعی رائیگاں جائے گی ۔
