حیدرآباد۔چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ دو یا تین یوم میں پرگتی بھون واپس ہوجائیں گے اور تلنگانہ میں لاک ڈاؤن کے متعلق قطعی فیصلہ کیا جائے گا۔ بتایاجاتا ہے کہ چیف منسٹر 27 اپریل کو یشودھا ہاسپٹل میں معائنوں کیلئے پہنچیں گے اوردوبارہ واپس ایراولی میں واقع اپنے فارم ہاؤز روانہ ہو جائیں گے ۔ جب معائنوں کی رپورٹس آجائیں گی تو وہ واپس پرگتی بھون لوٹ جائیں گے۔ بتایاجاتا ہے کہ اعلیٰ عہدیداروں سے بات چیت میں غور کیا جا رہاہے کہ ریاست میں مکمل لاک ڈاؤن لگایا جائے یا ان اضلاع میں لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا جائے جن میں کورونا مریضوںکی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق چیف منسٹر نے پرگتی بھون واپسی کے بعد اس مسئلہ پر قطعی فیصلہ کا اشارہ دیا ہے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ ریاست میں رات کے کرفیو کے باوجود مریضوں کی بڑھتی تعداد کو دیکھتے ہوئے مزید سخت فیصلے کے سلسلہ میں چیف منسٹر کو تجاویز روانہ کردی گئی ہیں ۔ عہدیداروں نے بتایا کہ محکمہ صحت و انتظامیہ کی جانب سے مکمل لاک ڈاؤن پر ریاست کو نقصانات کے علاوہ ضلعی سطح پر لاک ڈاؤن کی صورت میں مسائل سے واقف کروایا جاچکا ہے۔عہدیداروں نے بتایا کہ چہارشنبہ یا جمعرات کو چیف منسٹر اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کرکے تلنگانہ میں مکمل لاک ڈاؤن یا ضلعی سطح پر لاک ڈاؤن پر فیصلہ کرسکتے ہیں ۔ چیف منسٹر نے ضلع کلکٹرس سے اضلاع کی صورتحال اور دواخانوں میں آکسیجن اور بستروں کی سہولت کی تفصیلات سے آگہی حاصل کی ہے ۔ تلنگانہ میں مکمل لاک ڈاؤن کی صورت میں پہلے سے زیادہ سخت لاک ڈاؤن کا فیصلہ ہوسکتا ہے بتایا جاتا ہے کہ لاک ڈاؤن کے بجائے سخت کرفیو کے متعلق غور کیا جانے لگا ہے تاکہ کورونا کے پھیلاو کو روکا جاسکے۔