کے سی آر کی قومی سیاسی پارٹی کے قیام کا مقصد بی جے پی کو فائدہ پہنچانا :محمد علی شبیر

   

این ٹی آر اور چندرا بابو نائیڈو کو قومی سیاست میں زوال کی تاریخ، کانگریس کو کمزور کرنے کی سازش کا الزام
حیدرآباد۔/14ستمبر، ( سیاست نیوز) سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے چیف منسٹر کے سی آر کی جانب سے قومی سیاسی پارٹی کے قیام کی تیاریوں کو محض ایک ناکام کوشش قرار دیا اور کہا کہ آندھرا پردیش کی تاریخ میں قومی پارٹی قائم کرنے والے قائدین کامیاب نہیں ہوئے۔ گاندھی بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ گزشتہ آٹھ برسوں میں عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل میں ناکام کے سی آر اب قومی سیاست میں اہم رول ادا کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی سے خفیہ مفاہمت کے نتیجہ میں کانگریس کو کمزور کرنے کیلئے قومی سیاسی پارٹی کا منصوبہ بنایا گیا۔ کے سی آر چاہتے ہیں کہ قومی سطح پر مخالف بی جے پی اپوزیشن جماعتوں کو تقسیم کرتے ہوئے مخالف بی جے پی محاذ کمزور کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ قومی سیاست میں حصہ لینے سے قبل کے سی آر کو عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل کرنی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ آندھرا پردیش میں جس کسی نے قومی پارٹی قائم کی وہ ناکام رہا۔ این ٹی راما راؤ کا قومی سیاست میں حصہ لینے کا فیصلہ زوال کا سبب بنا۔ اسی طرح چندرا بابونائیڈو نے تلگودیشم کو قومی پارٹی میں تبدیل کیا جس کے بعد تلنگانہ اور آندھرا پردیش دونوں ریاستوں سے ان کا صفایا ہوگیا۔ اگر کے سی آر قومی سیاسی پارٹی قائم کرتے ہیں تو ان کا حشر بھی این ٹی آر اور چندرا بابو نائیڈو جیسا ہوگا۔ نہ صرف تلنگانہ بلکہ ملک کی دیگر ریاستوں کے عوام مسترد کردیں گے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ قومی سیاسی پارٹی کے قیام سے عملی سیاست میں کے سی آر کلین بولڈ ہوجائیں گے۔ منوگوڑ ضمنی چناؤ میں کانگریس کی کامیابی کا دعوی کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ کانگریس سے انحراف کرنے والے راجگوپال ریڈی کے خلاف ہر گاؤں میں عوام ناراضگی کا اظہار کررہے ہیں۔ منوگوڑ میں کانگریس کی کامیابی یقینی ہے اور ٹی آر ایس اور بی جے پی علی الترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پٹن چیرو میں منعقدہ جلسہ عام میں منوگوڑ کے رائے دہندوں میں کانگریس کو کامیاب کرنے کیلئے غیر معمولی جوش و خروش دیکھا گیا۔ر