کے سی آر کی ممبئی میں ادھو ٹھاکرے اور شرد پوار سے علحدہ ملاقاتیں

,

   

قومی سطح پر محاذ کیلئے عنقریب حیدرآباد میں اجلاس، قومی و علاقائی ہم خیال جماعتوں سے مشاورت، بی جے پی کی فرقہ پرست و انتقامی سیاست کی مذمت
حیدرآباد۔/20 فروری، ( سیاست نیوز) قومی سطح پر مخالف بی جے پی محاذ کے قیام کی مہم کے طور پر چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ نے آج ممبئی پہنچ کر چیف منسٹر ادھو ٹھاکرے اور این سی پی کے سربراہ شرد پوار سے علحدہ ملاقاتیں کیں اور قومی سطح پر سیاسی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ہم خیال جماعتوں میں اتحاد کی ضرورت پر زور دیا۔ کے سی آر نے ادھو ٹھاکرے کے ساتھ ظہرانہ میں شرکت کی اور مختلف مسائل پر بات چیت کے بعد ادھو ٹھاکرے کے ہمراہ میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں قائدین نے بی جے پی زیر قیادت مرکزی حکومت کے آمرانہ طرز حکمرانی کے خلاف ہم خیال جماعتوں کے اتحاد کی ضرورت سے اتفاق کیا ہے۔ دونوں قائدین نے کہا کہ ہم نے ملک کو تقسیم کرنے والی طاقتوں کے خلاف مشترکہ جدوجہد کا فیصلہ کیا ہے۔ عنقریب ہم خیال علاقائی اور قومی سیاسی جماعتوں کے قائدین کے ساتھ حیدرآباد یا کسی اور مقام پر اجلاس طلب کیا جائے گا۔ دونوں قائدین نے تقریباً دیڑھ گھنٹے تک ملک کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ مہاراشٹرا سے بہتر شروعات ہوئی ہے اور مہاراشٹرا کی سرزمین سے جو شیواجی اور بالا صاحب ٹھاکرے کی ہے یہاں سے اٹھنے والی ہر تحریک کامیاب ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم مختلف قومی اور علاقائی جماعتوں کے قائدین سے اتحاد میں شمولیت کیلئے ربط میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ملک میں ایک بڑی تبدیلی چاہتے ہیں جس میں نفرت کا خاتمہ ہو اور ایک مضبوط ہندوستان تیار کیا جائے۔ ملک کی عظیم روایات کا تحفظ اور نوجوانوں سے انصاف ہمارا مقصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیگر جماعتوں سے مشاورت کے بعد ایکشن پلان تیار کیا جائے گا۔ کے سی آر نے کہا کہ کئی مسائل پر ہم میں اتفاق رائے پیدا ہوا ہے۔ عنقریب حیدرآباد یا اور کسی مقام پر اجلاس میں آئندہ کا راستہ طئے کیا جائے گا۔ انہوں نے ادھو ٹھاکرے کی مہمان نوازی پر اظہار تشکر کرتے ہوئے دورہ حیدرآباد کی دعوت دی۔ کے سی آر نے کہا کہ مہاراشٹرا کے ساتھ تلنگانہ کی 1000 کیلو میٹر طویل سرحد ہے اور مہاراشٹرا کے تعاون سے تلنگانہ کا کالیشورم پراجکٹ تعمیر کیا جاسکا۔ دونوں ریاستوں میں آئندہ بھی دوستی کا سلسلہ جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی موجودہ سیاست میں تبدیلی کی ضرورت ہے اور گزشتہ 75 برسوں میں جو کام ہونے چاہیئے تھے نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ظلم کے خلاف لڑنا چاہتے ہیں تاکہ جمہوریت قائم رہے۔ ملک کے ماحول کو خراب ہونے سے بچائیں گے اور مضبوط ہندوستان بنائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں کے سی آر نے کہا کہ ابھی آغاز ہے اور اس مرحلہ پر کوئی پیش قیاسی درست نہیں ہے۔ دیگر قائدین سے مشاورت کے بعد ہی آئندہ لائحہ عمل طئے ہوگا۔ چیف منسٹر مہاراشٹرا ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ طویل عرصہ سے اس اجلاس کی تیاری کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں سیاست کی سطح کافی گھٹ چکی ہے۔ ہم کبھی بھی انتقامی سیاست پر یقین نہیں رکھتے۔ ہمارا ہندوتوا بدلہ لینے کیلئے نہیں ہے۔ اگر سیاست کی یہی صورتحال رہی تو ملک کا مستقبل کیا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جھوٹ اور دوسروں کو بدنام کرنا ملک کیلئے ٹھیک نہیں ہے۔ چیف منسٹر کے ہمراہ ارکان پارلیمنٹ جے سنتوش کمار، رنجیت ریڈی، بی بی پاٹل، ارکان کونسل کے کویتا، پی راجیشور ریڈی اور شراون کمار ریڈی موجود تھے۔ بات چیت کے موقع پر شیوسینا کے رکن پارلیمنٹ سنجے راوت بھی شریک رہے۔ر

چیف منسٹر کے سی آر ممبئی سے حیدرآباد واپس
حیدرآباد۔/20 فروری، (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ ممبئی کے ایک روزہ ہنگامی دورہ کے بعد شام میں حیدرآباد واپس ہوگئے۔ قومی سطح پر بی جے پی مخالف محاذ کی تشکیل کیلئے ہم خیال جماعتوں سے مشاورت کے سلسلہ میں کے سی آر نے ممبئی پہنچ کر چیف منسٹر اور شیو سینا کے سربراہ ادھو ٹھاکرے سے ملاقات کی۔ چیف منسٹر کی قیامگاہ پر لنچ کا اہتمام کیا گیا تھا۔ بعد میں انہوں نے شرد پوار سے ملاقات کی اور وہاں سے سیدھے ممبئی ایر پورٹ پہنچے۔ خصوصی طیارہ کے ذریعہ کے سی آر حیدرآباد واپس ہوگئے۔ ان کے ہمراہ دختر کے کویتا کے علاوہ ارکان پارلیمنٹ سنتوش کمار، رنجیت ریڈی، بی بی پاٹل، رکن کونسل پی راجیشورریڈی اور دوسرے موجود تھے۔ر