کے سی آر کی نتن گڈکری سے ملاقات

   

شہر کے اطراف ایکسپریس وے و دیگر ہائی ویز کیلئے نمائندگی
حیدرآباد۔6 ۔ستمبر (سیاست نیوز) چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے آج نئی دہلی میں وزیر روڈ ٹرانسپورٹ و ہائی ویز نتن گڈکری سے ملاقات کی اور تلنگانہ کے زیر التواء پراجکٹس پر یادداشت پیش کی ۔ چیف منسٹر نے چار علحدہ مکتوب حوالے کئے جن میں مختلف اضلاع میں قومی شاہراہوں کی تعمیر کی درخواست کی گئی ۔ انہوں نے حیدرآباد تا وجئے واڑہ قومی شاہراہ 65 کی 2012 ء میں منظوری کا حوالہ دیا اور کہا کہ جی ایم آر حیدرآباد اور وجئے واڑہ ایکسپریس وے سے معاہدہ کے مطابق ہائی وے 6 لین پر مشتمل رہے گی اور اپریل 2024 ء تک مکمل کرلی جائیگی۔ اس ہائی وے پر غیر معمولی ٹریفک کے پیش نظر مرکز کو پراجکٹ کی عاجلانہ تکمیل کے اقدامات کرنے چاہئے ۔ کنٹراکٹر 6 لین کی تعمیر سے انکار کررہا ہے لہذا مرکز کو مداخلت کرنی چاہئے ۔ چیف منسٹر نے چوٹ اپل تا شاد نگر ، کریم نگر تا ایلا ریڈی پٹلم ، کتہ کوٹا تا گوڈور اور ظہیر آباد تا دیگلور کی ہائی ویز کو اپ گریڈ کرنے کی تجویز پیش کی ۔ چیف منسٹر نے سنٹرل روڈ اینڈ انفراسٹرکچر فنڈ سے تلنگانہ میں ریاستی روڈس کی ترقی کے منصوبہ پر عمل آوری کیلئے 744 کروڑ اجرائی کی درخواست کی ۔ انہوں نے حیدرآباد کے اطراف 340 کیلو میٹر طویل ایکسپریس وے کے تعمیری منصوبہ کا حوالہ دیا اور مرکز سے منظوری کی درخواست کی ۔ چیف منسٹر نے اگست 2018 میں اس پر نتن گڈکری سے نمائندگی کی تھی ۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ تین برسوں میں ریاستی حکومت نے گجویل رنگ روڈ ، بسوا پور ذخیرہ آب اور دیگر علاقوں میں کام انجام دیئے ہیں۔ چوٹ اپل ، شادنگر اور سنگا ریڈی تک 182 کیلو میٹر طویل ایکسپریس وے کی منظوری کیلئے مرکز کو تجاویز پیش کی گئیں۔ چیف منسٹر نے ایکسپریس وے جنوبی حصہ کے تعمیری کاموں کی منظوری کی درخواست کی ۔ انہوں نے کہا کہ ایکسپریس وے سے مہاراشٹرا ، آندھراپردیش و کرناٹک عوام کو بھی فائدہ ہوگا۔ چیف منسٹر نے کلواکرتی تا نندیال 4 لین پر مشتمل قومی شاہراہ کی تعمیر کی درخواست کی ۔ R