مناسب وقت پر کارروائی ، آر ٹی سی کرایہ میں اضافہ کی مخالفت: ڈی اروند
حیدرآباد۔3 ۔ ڈسمبر (سیاست نیوز) بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ڈی اروند نے سنسنی خیز انکشاف کیا ہے کہ سی بی آئی اور ای ڈی کے پاس چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے خلاف ٹھوس ثبوت موجود ہے اور ان کا جیل جانا طئے ہے۔ نئی دہلی میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ڈی اروند نے کہا کہ تلنگانہ میں حکومت کی بدعنوانیاں عروج پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے خلاف کارروائی مرکزی حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ معاملہ سی بی آئی اور ای ڈی کے پاس ہے۔ یہ ادارے مناسب وقت پر کارروائی کریں گے ، تاہم چیف منسٹر کا جیل جانا صد فیصد یقینی ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں ٹی آر ایس ارکان کے احتجاج کو مضحکہ خیز قرار دیا اور کہا کہ ٹی آر ایس کا احتجاج دراصل ’’الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے‘‘ کے مصداق ہے۔ دھان کی خریدی تلنگانہ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ مرکزی حکومت نے گزشتہ تین برسوں میں تلنگانہ سے مقررہ نشانہ سے زیادہ دھان حاصل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر حکومت نے مرکز کو آج تک یہ وضاحت نہیں کی کہ جاریہ خریف سیزن میں اضافی دھان کتنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے ملک کی کسی بھی ریاست کے مقابلہ تلنگانہ کے کسانوں کے ساتھ ہمدردانہ سلوک کیا ہے۔ ٹی آر ایس حکومت دھان کی خریدی کے بجائے مرکز پر تنقید کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کی جانب سے دھان کی عدم خریدی کے اعلان کے بعد سے کسانوں کی خودکشی کے واقعات میں اضافہ ہوچکا ہے۔ آر ٹی سی بس کرایوں میں اضافہ کی تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے ڈی اروند نے کہا کہ کے سی آر حکومت کو پٹرول اور ڈیزل پر ویاٹ کم کرتے ہوئے آر ٹی سی کے نقصانات میں کمی کرنی چاہئے ۔ مرکزی حکومت اور کئی ریاستوں میں ویاٹ میں کمی کے ذریعہ عوام کو راحت پہنچائی ہے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ 7 برسوں میں ٹی آر ایس حکومت نے پٹرول اور ڈیزل پر دو مرتبہ ویاٹ کی شرحوں میں اضافہ کیا ہے۔ لیکن آج کمی کے لئے تیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی بس کرایوں میں اضافہ کی دت سے مخالفت کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ دلتوں اور کسانوں کو انصاف دلانے کے لئے ٹی آر ایس کی جدوجہد کے سی آر حکومت کے زوال تک جاری رہے گی۔ر