بی جے پی اور ٹی آر ایس میں کوئی فرق نہیں، رکن پارلیمنٹ ریونت ریڈی کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔/31 اگسٹ، ( سیاست نیوز) کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ریونت ریڈی نے کہا کہ بی جے پی کے سی آر کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان منقسم ہوچکی ہے جبکہ حقیقت میں یہ دونوں پارٹیاں ایک ہی ہیں۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ کے سی آر کی مخالفت کرنے والوں کیلئے بی جے پی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں برقی کی خریداری میں بے قاعدگیوں کی سی بی آئی تحقیقات کے سلسلہ میں بی جے پی صدر ڈاکٹر لکشمن کو جواب دینا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ برقی پیداوار اور سربراہی سے متعلق اداروں پر سینئر آئی اے ایس عہدیداروں کو مقرر کیا جاتا ہے لیکن ٹی آر ایس حکومت نے بے قاعدگیوں کی انجام دہی کیلئے ریٹائرڈ عہدیدار کو اہم عہدوں پر مامور کیا۔ انہوں نے کہا کہ پربھاکر راؤ، رگھوما راؤ اور گوپال راؤ کو تینوں برقی اداروں کا صدرنشین اور منیجنگ ڈائرکٹر مقرر کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ان تینوں عہدیداروں نے کے سی آر کی مدد کی ہے جو ہزاروں کروڑ کے اسکام کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 2014 سے آج تک برقی کے ادارے 74000 کروڑ قرض حاصل کرچکے ہیں تاہم پربھاکر راؤ اس کی تردید کرتے ہوئے حقائق کو جھٹلانے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے پربھاکر راؤ سے حقائق منظر عام پر لانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی برقی کی خریدی میں دھاندلیوں کا الزام عائد کررہی ہے لیکن مرکز سے سی بی آئی تحقیقات کیلئے تیار نہیں۔ ریونت ریڈی نے چیلنج کیا کہ اگر دھاندلیوں کی تحقیقات کرائی جائیں تو کانگریس پارٹی ثبوت پیش کرنے کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ برقی کی خریدی میں دھاندلیوں کو منظر عام پر لانے پر برقی ملازمین کے ذریعہ احتجاج کرایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برقی کے عہدیدار پربھاکر راؤ صرف 35 ہزارکروڑ قرض کا دعویٰ کررہے ہیں جبکہ حقیقت میں یہ 74 ہزار کروڑ ہے۔ریونت ریڈی نے کہا کہ کانگریس پارٹی برقی خریدی میں دھاندلیوں کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ چھتیس گڑھ سے برقی خریدی کے ذریعہ عوام پر بھاری بوجھ عائد کیا گیا ہے جبکہ کے سی آر خاندان کو مذکورہ خریدی سے فائدہ پہنچا۔
