کے سی آر کے خلاف نوٹس تحقیقات نہیں سیاسی انتقام : کے ٹی آر

   

تلنگانہ کی تاریخ نوٹس سے نہیں مٹے گی ۔ بلدی انتخابات میں عوام کانگریس کو سبق سکھائیں گے

حیدرآباد ۔ 29 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے فون ٹیاپنگ کیس میں سابق چیف منسٹر کے سی آر کو جاری کی گئی نوٹس پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے سیاسی انتقام قرار دیا ۔ کے ٹی آر نے سوشیل میڈیا کے پلیٹ فارم ایکس پر ایس آئی ٹی کی جانب سے کے سی آر کو جاری کی گئی نوٹس پر اپنی سخت برہمی کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر وہ قائد ہیں جنہوں نے طویل اور صبر آزما تحریک چلانے کے بعد علحدہ ریاست تلنگانہ حاصل کرنے کے لیے اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال دیا تھا ۔ ایسے قائد کے خلاف سیاسی انتقام نامناسب ہے ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ بی آر ایس کے 10 سالہ دور حکومت میں بحیثیت چیف منسٹر کے سی آر نے دنیا کو ایک نیا تلنگانہ دکھایا اور ریاست کو اعلیٰ درجے تک پہنچا دیا ۔ ان کی بصیرت افروز قیادت میں آبپاشی انقلاب ، مشین بھگیرتا ، مشین کاکتیہ ، ریتوبندھو ، ریتو بیمہ اور دلت بندھو جیسی فلاحی اسکیمات کے ذریعہ پسماندہ طبقات کو ترجیح دی گئی اور ریاست کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا گیا ۔ کے ٹی آر نے الزام عائد کیا کہ نا اہل کانگریس جھوٹے وعدوں اور غلط بیانات کی بنیاد پر اقتدار میں آئی اور دو سال مکمل ہونے کے باوجود کوئی بھی وعدے کو پورا کرنے میں بری طرح ناکام رہی ۔ بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ نے کہا کہ کانگریس حکومت اپنی ناکامیوں اور انتظامی کوتاہیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے اب تحقیقات کے نام پر کے سی آر کے خلاف نوٹس جاری کررہی ہے ۔ جو متعصبانہ اور شیطانی سیاست کا واضح ثبوت ہے ۔ کے ٹی آر نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ یہ تفتیش نہیں بلکہ انتقام ہے ۔ یہ انصاف نہیں بد دیانتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر عوام کے دلوں میں بستے ہیں اور نوٹس یا دھمکیوں سے تلنگانہ کی تاریخ کو مٹایا نہیں جاسکتا ۔ اگر تلنگانہ تحریک اور ریاست کی عزت نفس کی توہین کی گئی تو عوام خود کانگریس کو مناسب جواب دیں گے ۔ کے ٹی آر نے اس کارروائی کی سخت مذمت کرتے ہوئے اعلان کیا کہ پارٹی عوام کے شانہ بشانہ کھڑی رہے گی اور عوام کی آواز بن کر اس ظالمانہ حکمرانی کے خلاف جدوجہد جاری رکھے گی ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی تاریخ تحقیقات سے نہیں بلکہ عوامی فیصلے سے لکھی جائے گی ۔۔ 2