کے سی آر کے مشورہ پر آندھراپردیش میں تین دارالحکومتوں کا فیصلہ ، ہنمنت راؤ کی پریس کانفرنس

   

حیدرآباد ۔ 21 ۔ جنوری (سیاست نیوز) سابق رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت راؤ نے آندھراپردیش میں تین دارالحکومتوں کے قیام سے متعلق وائی ایس جگن موہن ریڈی حکومت کے فیصلہ کو مضحکہ خیز قرار دیا ۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ہنمنت راؤ نے کہا کہ سیاسی زندگی میں انہوں نے کسی بھی ریاست میں بیک وقت تین دارالحکومتوں کو نہیں دیکھا ہے۔ ہندوستان کی کسی بھی ریاست میں تین علحدہ دارالحکومت نہیں ہیں لیکن جگن موہن ریڈی عدلیہ ، عاملہ اور مقننہ کے لئے تین علحدہ اضلاع میں دارالحکومت کے قیام کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ اس سلسلہ میں عوامی مخالفت کی پرواہ کئے بغیر اسمبلی میں بل منظور کیا گیا ۔ ہنمنت راؤ نے کہا کہ آندھراپردیش کو خصوصی موقف دیئے جانے کے لئے حکومت کے پاس فنڈس نہیں ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ تین علحدہ دارالحکومتوں کی ترقی کے لئے فنڈس کہاں سے لائیں گے ۔ انہوں نے مرکز سے مطالبہ کیا کہ وہ آندھراپردیش کے امور میں فوری مداخلت کرے۔ تین دارالحکومتوں کے تنازعہ پر مرکز کو کارروائی کرنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کے مشورہ پر جگن نے تین دارالحکومتوں کے قیام کا فیصلہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بلدی انتخابات کے بعد وہ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے مجسمہ کی تنصیب کے لئے باقاعدہ تحریک شروع کریں گے ۔ ہنمنت راؤ نے کہا کہ دستور ہند کے معمار کی توہین کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے وہ اپنی جان کی قربانی دینے تیار ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ کانگریس قائدین امبیڈکر مجسمہ کے مسئلہ پر خاموشی اختیار کرچکے ہیں۔ انہوں نے عدلیہ سے درخواست کی کہ وہ اس معاملہ میں انصاف دلائے۔ انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ کو اپنے طور پر اس معاملہ کی جانچ کرتے ہوئے مجسمہ کی تنصیب کی ہدایت دینی چاہئے ۔ مجسمہ کو پولیس اسٹیشن میں رکھے جانے کے خلاف عدالت کو کارروائی کرنی ہوگی۔ ہنمنت راو نے کہا کہ پنجہ گٹہ میں وائی ایس راج شیکھر ریڈی کا مجسمہ پہلے سے موجود ہے اور اس متصل امبیڈکر مجسمہ نصب کرنے کی تجویز ہے۔ مجسمہ سے ٹریفک میں کوئی خلل نہیں پڑے گگا ۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کے اہم مقامات پر جو مجسمے نصب کئے گئے ، ان میں کسی کے لئے اجازت حاصل نہیں کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ امبیڈکر مجسمہ ی توہین سے نہ صرف دلتوں اور پسماندہ طبقات بلکہ ہر شہری کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر دستور میں دفعہ 3 شامل نہ ہوتی تو تلنگانہ ریاست کا وجود نہ ہوتا۔ دستور کے معمار کے مجسمہ کی مخالفت افسوسناک ہے۔ کے سی آر حکومت نے امبیڈکر کا طویل قامت مجسمہ نصب کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن آج تک مجسمہ تیار نہیں ہوا ہے۔