کے سی آر کے پاس وزراء سے ملاقات کا وقت نہیں: بھٹی وکرمارکا

   

Ferty9 Clinic


فارم ہاؤز سے حکمرانی افسوسناک، سیلاب کے متاثرین امداد سے محروم
حیدرآباد: سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرمارکا نے الزام عائد کیا کہ ریاست میں کے سی آر کی زیر قیادت حکومت کا عوام سے کوئی تعلق باقی نہیں رہا ۔ حکومت عجیب و غریب صورتحال سے گزر رہی ہے ۔ چیف منسٹر کے سی آر ایک طرف وزراء تو دوسری طرف عوام سے ربط میں نہیں ہیں۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ کے سی آر فارم ہاؤز سے اپنی حکومت چلا رہے ہیں۔ وزراء کو چیف منسٹر سے ملاقات کی اجازت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل سے واقفیت میں چیف منسٹر کو کوئی دلچسپی نہیں اور وہ ایک بادشاہ کی طرح من مانی حکومت چلا رہے ہیں۔ حکومت کے دو سال کی تکمیل کو ناکام حکمرانی قرار دیتے ہوئے بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ عوام سے کیا گیا ایک بھی وعدہ پورا نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ عہدیدار کہاں دستیاب ہیں ، کوئی نہیں جانتا ۔ تلنگانہ کا سکریٹریٹ ختم ہوچکا ہے اور عہدیدار عوامی نمائندوں کیلئے دستیاب نہیں ہے۔ کسی بھی کام کے سلسلہ میں عہدیداروں سے ربط پیدا کرنے کی کوششیں رائیگاں ثابت ہوتی ہیں۔ کالیشورم پراجکٹ پر ایک لاکھ کروڑ خرچ کئے گئے لیکن پراجکٹ سے ایک ایکر اراضی کو پانی سیراب نہیں کیا گیا۔ حیدرآباد کے عوام سیلاب سے متاثر ہوئے لیکن چیف منسٹر نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کی زحمت نہیں کی۔ سیلاب کے متاثرین آج بھی حکومت کی امداد سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دوسری میعاد میں چیف منسٹر کو چاہئے تھا کہ وہ وعدوں کی تکمیل کا لائحہ عمل طئے کرتے لیکن چیف منسٹر کو صرف اقتدار میں برقراری کی فکر ہے۔ دلتوں کو اراضی کی تقسیم ، مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات اور دیگر وعدے کاغذی ثابت ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کی پالیسیوں کے نتیجہ میں کئی محکمہ جات زوال کا شکار ہیں۔ محکمہ جات زراعت اور مال میں اصلاحات کے نام پر کئی خامیاں پیدا کی گئی ہیں۔ چیف منسٹر نے گریٹر انتخابی مہم کے دوران اعلان کیا تھا کہ نتائج کے بعد حکومت کی امداد تقسیم کی جائے گی لیکن آج تک امداد کی تقسیم کا آغاز نہیں ہوا ہے۔ کے سی آر نے 57 سال عمر والوں کے لئے پنشن اسکیم کا اعلان کیا لیکن آج تک احکامات جاری نہیں کئے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ کورونا سے نمٹنے میں تلنگانہ حکومت ناکام ہوچکی ہے جس کے نتیجہ میں غریب اور متوسط خاندانوں میں بڑی تعداد میں اموات واقع ہوئیں۔ کورونا کو آروگیہ شری کے تحت شامل کرنے کا وعدہ پورا نہیں ہوا جس کے نتیجہ میں کارپوریٹ ہاسپٹلس کی لوٹ جاری ہے ۔ بلدی انتخابات میں بی جے پی نے فرقہ وارانہ بنیاد پر انتخابی مہم چلائی اور فائدہ حاصل کیا۔ ایک سوال کے جواب میں بھٹی وکرمارکا نے بتایا کہ نئے پی سی سی صدر کے بارے میں ارکان اسمبلی نے اپنی رائے مانکیم ٹیگور کو پیش کی ہے۔ میں نے بھی اپنی رائے کا اظہار کیا ہے ۔ نئی دہلی روانگی کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔