حلقہ جات کی از سرنو حدبندی سے جنوبی ریاستوں کو نقصان کا اندیشہ
حیدرآباد ۔30 ۔ مارچ (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ سابق چیف منسٹر اور بی آر ایس سربراہ کے سی آر کو کے سی آر کو گھر پر نظربند رکھا گیا ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ کے سی آر کی عدم موجودگی کے سبب حکومت کی جانب سے شروع کردہ اچھے کام عوام تک نہیں پہنچ پارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کی موجودگی کے سبب انہیں عوام میں شناخت حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہر کوئی یہ سمجھ رہا ہے کہ کے سی آر گھر پر آرام کر رہے ہیں جبکہ انہیں اس بات کا اندیشہ ہے کہ کے سی آر کو گھر پر نظربند رکھا گیا ہے۔ لوک سبھا اور اسمبلی حلقہ جات کی از سر نو حدبندی پر بی جے پی لیڈر ڈاکٹر لکشمن کے بیان پر سخت تنقید کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ ڈاکٹر لکشمن معلومات کے بغیر بیان بازی کر رہے ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ لکشمن کس طرح ڈاکٹر بن گئے ناقابل فہم ہے۔ ڈاکٹر لکشمن اپنے تبصرہ کے ذریعہ تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی کر رہے ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ از سر نو حدبندی کے ذریعہ جن نشستوں کا اضافہ ہوگا ، وہ خواتین کو مختص کی جائیں گی ۔ اگر 50 فیصد نشستوں کا اضافہ ہو تو 410 نشستوں کا فرق پیدا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حلقہ جاتی تعداد میں ا ضافہ کے باوجود یہ فرق ختم نہیں کیا جاسکتا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ نشستوں کی تعداد میں اضافہ کے ذریعہ شمالی اور جنوبی ریاستوں کے درمیان امتیازی سلوک کا اندیشہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کو صرف پانچ شمالی ریاستوں میں نشستوں میں اضافہ سے دلچسپی ہے اور پانچ ریاستوں کی نشستیں مرکز کیلئے کافی رہیں گی۔ اگر ایسا ہوتا ہے کہ جنوبی ریاستوں کی نشستوں سے کوئی کام نہیں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ریاستوں کی نشستوں کی اہمیت میں کمی کی صورت میں بنڈی سنجے اور کشن ریڈی کیلئے سیاسی مواقع کم ہوجائیں گے ۔ چیف منسٹر نے دہرایا کہ از سر نو حد بندی میں جنوبی ریاستوں کو نقصان کا اندیشہ ہے ۔ مرکز میں تشکیل حکومت کیلئے شمالی ریاستوں کی نشستیں کافی ہوجائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ 50 فیصد نشستوں میں اضافہ کی تجویز پر ملک بھر میں مباحث کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نشستوں میں اضافہ کے معاملہ میں تمام ریاستوں کے ساتھ یکساں سلوک ہونا چاہئے۔1