تیجسوی یادوسے بات چیت، کانگریس سے ربط کا امکان، تلنگانہ سے بی جے پی کی توجہ ہٹانا اہم مقصد
حیدرآباد۔/30 اگسٹ، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے قومی سطح پر بی جے پی سے مقابلہ کیلئے ہم خیال چیف منسٹرس اور اپوزیشن جماعتوں کو متحد کرنے کی مہم تیز کردی ہے۔ آئندہ عام انتخابات سے قبل اور خاص طور پر تلنگانہ میں اسمبلی انتخابات تک کے سی آر قومی سطح پر بی جے پی کے متبادل کے طور پر سیکولر اور جمہوری محاذ کے قیام کے بارے میں پُرامید ہیں۔ چیف منسٹر نے اگرچہ حالیہ عرصہ میں پنجاب، مغربی بنگال، نئی دہلی، ٹاملناڈو اور جھار کھنڈ کے چیف منسٹرس سے ملاقاتیں کی ہیں۔ ان کے علاوہ بعض دیگر اپوزیشن قائدین سے مشاورت کرتے ہوئے قومی سطح پر متحدہ مساعی پر زور دیا۔ بہار میں نتیش کمار کے بی جے پی سے ناطہ توڑنے کے بعد سے چیف منسٹر کو قوی امید ہے کہ نتیش کمار قومی سطح پر اپوزیشن کو ایک پلیٹ فارم پر لانے میں اہم رول ادا کرسکتے ہیں۔ بی جے پی سے مفاہمت ختم کرنے اور آر جے ڈی کے ساتھ تشکیل حکومت کے بعد نتیش کمار کو 2024 میں نریندر مودی کے مقابلہ وزیر اعظم امیدوار کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ آر جے ڈی سے اتحاد کے بعد کے سی آر نے نتیش کمار کو فون پر مبارکباد پیش کی لیکن مذاکرات کیلئے وہ کل 31 اگسٹ کو پٹنہ روانہ ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق نتیش کمار کے علاوہ آر جے ڈی کے قائد تیجسوی یادو سے بھی تازہ ترین سیاسی صورتحال پر بات چیت ہوگی۔ چیف منسٹر نے پٹنہ دورہ کے موقع پر دو پروگرام طئے کئے ہیں لیکن اس دورہ کا اصل مقصد نتیش کمار سے قومی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال اور مشترکہ حکمت عملی طئے کرنا ہے۔ چیف منسٹر کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ تلنگانہ میں بی جے پی کی بڑھتی سرگرمیوں کا مقابلہ کرنے کیلئے کے سی آر قومی سطح پر بی جے پی کو گھیرنے کی تیاری کررہے ہیں تاکہ تلنگانہ پر بی جے پی کی توجہ کم ہوجائے۔ ذرائع کے مطابق نتیش کمار سے ملاقات کے ایجنڈہ کے بارے میں کے سی آر نے اپنے قریبی رفقاء سے تبادلہ خیال کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ بی جے پی سے متحدہ مقابلہ کیلئے ضرورت پڑنے پر کانگریس قیادت سے بھی بات چیت کی جاسکتی ہے۔ چیف منسٹر نے قریبی ساتھیوں سے کہا کہ قومی سطح پر مخالف بی جے پی محاذ کی تیاری کانگریس کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ انہیں امید ہے کہ کانگریس پارٹی بی جے پی کو 2024 میں اقتدار سے روکنے میں تعاون کرے گی۔ نئی دہلی میں ٹی آر ایس کے ارکان پارلیمنٹ نے اس مسئلہ پر کانگریس قائدین سے غیر رسمی طور پر بات چیت کی ہے۔ر