الیکشن کمیشن پر برہمی ، جدوجہد آزادی کے طرز پر تلنگانہ تحریک چلائی گئی ‘ فلاحی اسکیمات سے پڑوسی ریاستیں متاثر ، آندھرا میں ٹی آر ایس کے قیام کا مطالبہ ، چیف منسٹر
حیدرآباد : 25 اکٹوبر ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے سی آر 9 ویں مرتبہ تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے بلامقابلہ صدر منتخب ہوئے ۔ صدارتی تقریر کے دوران چیف منسٹر نے الیکشن کمیشن پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے حدود پار کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ تلنگانہ کی فلاحی اسکیمات سے متاثر ہوکر آندھراپردیش کے عوام وہاں ٹی آر ایس تشکیل دینے کا مطالبہ کررہے ہیں اور پڑوسی ریاستوں کے عوام اپنے اضلاع کو تلنگانہ میں ضم کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں ۔ ہائی ٹیکس میں منعقدہ ٹی آر ایس پلینری اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کے سی آر نے کہا کہ کئی توہین آمیز لمحات کا سامنا کرتے ہوئے کسی بھی سمجھوتہ کئے بغیر تحریک چلائی گئی اور علحدہ تلنگانہ ریاست حاصل کی گئی ۔ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد تمام شعبوں میں ترقی ہوئی ہے ۔ ہماری اسکیمات کی مختلف ریاستوں کے بشمول مرکزی حکومت تقلید کررہی ہیں ۔ کے سی آر نے انہیں دوبارہ بلامقابلہ صدر منتخب کرنے پر پارٹی قائدین سے اظہار تشکر کیا ۔ انہوں نے کہا کہ 27 اپریل 2001ء کو آنجہانی کونڈا لکشمن باپوجی کے ساتھ جلادرشیم میں ٹی آر ایس کی تشکیل عمل میں لائی گئی ۔ اس کے بعد سے تحریک کے دوران کئی شک و شبہات کا اظہار کیا گیا ۔ کئی مرتبہ توہین کی گئی تاہم ملک کی آزادی کی طرز پر تلنگانہ کی تحریک چلائی گئی ۔ گاندھی جی کی قیادت میں 287 مرتبہ کئی تحریکات کا اعلان کرکے دستبرداری اختیار کی گئی ۔ 1857 سپاہیوں کی بغاوت بھی ناکام ہوگئی ۔ جلیان والا باغ بھی ہم نے دیکھا ہے ۔ تحریکات کے ذریعہ علحدہ تلنگانہ حاصل کیا گیا ۔ متحدہ آندھرا کے حامیوں کی جانب سے کئی رکاوٹیں پیدا کی گئی ، یہاں تک کہ راجیہ سبھا میں بھی بل میں رکاوٹیں پیدا کی گئی ۔ ہم بھی حالت کے پیش نظر اپنی حکمت عملی کے تحت آگے بڑھتے رہے جس کی وجہ سے ہماری تحریک کامیاب ہوئی ہے ۔ تلنگانہ کی تحریک نے دنیا میں چلائی جانے والی تحریکات کو نئی طاقت فراہم کی ہے ۔ تلنگانہ کی فلاحی اسکیمات پڑوسی ریاستوں کے عوام کو متاثر کررہی ہے ۔ دلت بندھو اسکیم کا اعلان کرنے کے بعد آندھراپردیش عوام کی جانب سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ آندھراپردیش میں ٹی آر ایس پارٹی تشکیل دیا جائے ۔ تلنگانہ کی اسکیمات سے وہ بیحد متاثر ہیں ۔ اس کے علاوہ پڑوسی ریاستوں کے اضلاع ناندیڑ اور رائچور کے عوام تلنگانہ میں ضم کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں ۔ آندھراپردیش کے مختلف اضلاع سے مزدور تلنگانہ کو پہنچ کر روزگار حاصل کررہے ہیں ۔ ضلع محبوب نگر کے زیرالتواء پراجکٹس کی تکمیل کی گئی ہے ۔ ہر کام کیلئے دلیری ضروری ہے اس کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں ہے ۔ تلنگانہ میں زرعی پیداوار عروج پر پہنچ چکی ہے ۔ تلنگانہ کے زرعی شعبہ کو 24 گھنٹے مفت برقی سربراہ کی جارہی ہے ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے سنٹرل الیکشن کمیشن پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ الیکشن کمیشن بھی اپنے جمہوری حدود کو اپر کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔ الیکشن کمیشن کو چاہیئے کہ وہ جمہوری اقدار کا احترام کریں ۔ عزت و احترام کو برقرار رکھ لیں ، وہ ایک ذمہ دار پارٹی کے صدر اور ایک چیف منسٹر کی حیثیت سے الیکشن کمیشن کو مشورہ دے رہے کہ چلر کاموں سے باز آجائیں ۔ انہیں ( کے سی آر) کو جلسہ عام منعقد کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے ، چند لوگ نچلی سطح کی سیاست کررہے ہیں ۔ ناگر جنا ساگر میں جلسہ عام کو روکنے کیلئے ہائیکورٹ میں مقدمہ دائر کیا گا ۔ حضورآباد میں جلسہ عام کو روکنے کی سازش کی جارہی ہے ۔ اسمبلی حلقہ حضورآباد میں دلت بندھو اسکیم پر روک لگادی گئی مگر 4 نومبر سے اس پر دوبارہ عمل آوری ہوگی۔ مخالفین اس پر صرف 4 نومبر تک روک لگاسکتے ہیں ۔ انہیں یقین ہے کہ حضورآباد کے عوام ٹی آر ایس کے امیدوار جی سرینواس یادو آشیرواد دیں گے ۔ اس اسکیم پر آئندہ دو سال کے دوران 23 لاکھ کروڑ روپئے خرچ کئے جائیں گے ۔ دلتو ں کے علاوہ ایس ٹی ، بی سی اور اقلیتوں کو بھی اس طرح کی اسکیمات سے فائدہ پہنچایا جائے گا ۔ 75سالہ کانگریس کے دور حکومت میں اس طرح کی فلاحی اسکیمات پر کبھی بھی عمل آوری نہیں ہوئی ۔ جن ریاستوں میں بی جے پی اور کانگریس کی حکومتیں ہیں اس طرح کی اسکیمات پر عمل آوری کرنے کی بھی جرات بھی نہیں کی ۔ چیف منسٹر نے کانگریس اور بی جے پی قائدین پر زور دیا کہ وہ اپنی اپنی پارٹی قیادت پر دباؤ ڈالتے ہوئے جہاں اقتدار میں ہے وہاں دلت بندھو اسکیم پر عمل کر کے دکھائیں ۔ ن