کے سی آر تلنگانہ میں این آر سی پر عمل نہ کرنے کا اعلان کریں: ہنمنت رائو

   

مسلمانوں سے محض زبانی ہمدردی، پاکستان میں مہاجرین کے ساتھ دوسرے درجے کا رویہ
حیدرآباد۔ 19 ڈسمبر (سیاست نیوز) سابق رکن راجیہ سبھا وی ہنمنت رائو نے چیف منسٹر کے سی آر کو چیلنج کیا کہ وہ اقلیتوں سے اپنی ہمدردی کا ثبوت دینے کے لیے تلنگانہ میں این آر سی پر عمل نہ کرنے کا اعلان کریں۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ہنمنت رائو نے کہا کہ کے سی آر کو مسلمانوں کے ووٹ سے مطلب ہے اور وہ محض زبانی ہمدردی کرتے ہیں۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں ٹی آر ایس نے شہریت قانون کی مخالفت کی لیکن تلنگانہ کے مسلمانوں میں پائے جانے والے اندیشوں کو دور کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر اور اسد اویسی مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرتے ہیں لیکن مسلمانوں میں پائی جانے والی بے چینی دور کرنے سے دلچسپی نہیں ہے۔ ہنمنت رائو نے اسد اویسی کو مشورہ دیا کہ وہ کے سی آر کو سمجھائیں اور این آر سی پر واضح اعلان کرنے کا مشورہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی جانب سے شہریت قانون کی منظوری کے بعد سے ملک بھر میں مسلمان احتجاج کررہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ نریندر مودی حکومت ملک کو ہندو راشٹر میں تبدیل کرنے کی طرف پیش قدمی کررہی ہے۔ تلنگانہ کے تمام اضلاع بشمول حیدرآباد میں شہریت بل کے خلاف احتجاج جاری ہے جس میں بلالحاظ مذہب و ملت عوام شرکت کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خود کو مسلمانوں کا مسیحا قرار دینے والے کے سی آر کو چاہئے کہ وہ مغربی بنگال، کیرالا اور پنجاب کے چیف منسٹرس کی طرح تلنگانہ میں این آر سی پر عمل نہ کرنے کا اعلان کریں۔ ہنمنت رائو نے کہا کہ پارلیمنٹ میں بل کی مخالفت کافی نہیں ہے۔ بلکہ کے سی آر کو اپنی سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں میں اعتماد کی بحالی کے لیے ضروری ہے کہ کے سی آر این آر سی کے خلاف اپنے موقف کا اظہار کریں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی کے تحت وہ جب پاکستان کے دورے پر تھے، تو وہاں شہر کے چپل بازار علاقے سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ تقسیم ہند کے وقت وہ پاکستان منتقل ہوگئے تھے لیکن آج تک ان کی شناخت مہاجر کی حیثیت سے ہوتی ہے۔ مہاجرین کے ساتھ دوسرے درجے کا سلوک کیا جارہا ہے۔ ہنمنت رائو نے مرکزی حکومت سے سوال کیا کہ پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش کے غیر مسلموں کی فکر کرنے کے ساتھ ساتھ مہاجر مسلمانوں کی بھی فکر کریں جنہیں پاکستان میں دوسرے درجے کا شہری بنادیا گیا ہے۔ کرسچن، سکھ، جین، بودھ طبقات کے ساتھ مسلمانوں کو بھی شامل کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی حکومت نے گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ملک کو غیر مستحکم کرنے والے قدم اٹھائے ہیں۔ نوٹ بندی، جی ایس ٹی، طلاق ثلاثہ اور کشمیر سے 370 کی برخاستگی جیسے اقدامات ہندو راشٹر کی سمت پیشقدمی کے مترادف ہے۔ کانگریس پارٹی سکیولرازم پر اٹوٹ ایقان رکھتی ہے اور وہ ان کوششوں کا شدت سے مقابلہ کرے گی۔