کے سی آر حکومت کی دوسری میعاد کے دو سال کی تکمیل

   

Ferty9 Clinic

ترقیاتی اور فلاحی اقدامات کی تفصیلات جاری، لاک ڈاؤن کے دوران لاکھوں خاندانوں کو اناج اور مالی امداد
حیدرآباد۔ تلنگانہ میں چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کی ٹی آر ایس حکومت نے دوسری میعاد کے دو سال مکمل کرلئے۔ ہفتہ کو دو سال کی تکمیل کے موقع پر پارٹی نے طرح کے جشن یا تقاریب سے گریز کیا ۔ چیف منسٹر کے سی آر دو سال کی تکمیل کے دن نئی دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کر رہے تھے۔ دوسری میعاد کی دو سالہ کارکردگی کو فلاحی اور ترقیاتی سرگرمیوں کے اعتبار سے کامیاب قرار دیتے ہوئے چیف منسٹر کے دفتر نے رپورٹ جاری کی جس میں کہا گیا کہ حکومت نے نہ صرف ترقی کے راستہ پر ریاست کو گامزن کیا بلکہ ہر شعبہ حیات کے عوام کی زندگی میں خوشحالی لانے فلاحی اسکیمات کو اختیار کیا۔ حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ تلنگانہ میں گذشتہ 6 برسوں میں مختلف شعبہ جات میں ترقی کے ریکارڈ قائم کئے خاص طور پر زراعت اور صنعتی ترقی جیسے شعبہ جات میں انقلابی ترقی دیکھی گئی ہے۔ ریاست میں بیرونی سرمایہ کاری میں غیر معمولی اضافہ ہوا اور عالمی نقشہ پر حیدرآباد سرمایہ کاری کیلئے بہتر مقام کی حیثیت سے اُبھرا ہے۔ کئی عالمی اداروں نے اپنے یونٹس حیدرآباد میں قائم کئے ہیں۔ امن و ضبط کی بہتر صورتحال اور امن و امان کی برقراری کے نتیجہ میں سرمایہ کاروں کو ترغیب حاصل ہوئی۔ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کئی مراعات اور رعایتوں کا اعلان کیا گیا جن میں بلا وقفہ برقی و پانی کی سربراہی شامل ہے اور یہی صنعتوں کی اہم ضرورت ہے۔ حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ رعیتو بندھو اسکیم کے تحت 2009 میں امدادی رقم کو 8 ہزار سے بڑھا کر 10 ہزار کیا گیا۔ ہر سال 56 لاکھ کسانوں میں 12000 کروڑ روپئے تقسیم کئے جارہے ہیں۔

رعیتو بیمہ اسکیم کے تحت 32.73 لاکھ کسانوں کو فائدہ ہوا اور سرکاری خزانہ پر 1164 کروڑ کا بوجھ عائد ہوا ہے۔ دو مرحلوں میں کسانوں کے ایک لاکھ کے قرضہ جات کو معاف کیا گیا۔ پہلے مرحلہ میں 5.88 لاکھ کے قرض معاف کئے گئے جس کی مالیت 1212 کروڑ ہے۔ جون 2019 میں کالیشورم پراجکٹ کا آغاز کیا گیا جس کے تحت نہ صرف آبپاشی بلکہ پینے کے پانی اور صنعتی اغراض کیلئے سربراہی کو یقینی بنایا جائے گا۔ کسانوں کو 24 گھنٹے مفت برقی سربراہی کا سلسلہ جاری ہے۔ 3لاکھ کسانوں کو کریڈٹ کارڈز جاری کئے گئے۔ کورونا وباء کے دوران 4 ماہ تک ہر شخص کو 12 کیلو چاول اور 2 کیلو دال تقسیم کئے گئے۔ اپریل اور مئی کے دوران ہر خاندان کو 1500 روپئے کی رقم امداد دی گئی۔ ریاست میں 9355 نئے پنچایت سکریٹریز کا تقرر کیا گیا۔ پلے پرگتی پروگرام کے تحت صفائی کے علاوہ برقی اور دیگر اُمور کی یکسوئی کی گئی۔ ملگ اور نارائن پیٹ دو نئے اضلاع قائم کئے گئے جس سے ریاست کے اضلاع کی تعداد 33 ہوگئی ۔ 30 نئے ریوینو ڈیویژن قائم کئے گئے اور موجودہ ریوینو ڈیویژنس بڑھ کر 44 ہوگئے ہیں۔ سنیٹیشن ورکرس کی تنخواہوں کو 5 ہزار سے بڑھا کر 8500 کیا گیا۔ جولائی 2019 میں نیا میونسپل ایکٹ وضع کیا گیا اور 7 نئے میونسپل کارپوریشن قائم کئے گئے۔ ریاست میں میونسپل کارپوریشنوں کی تعداد 13 اور میونسپلٹیز کی تعداد 36 ہے۔ فبروری میں شہری ترقی کے عنوان سے پروگرام شروع کیا گیا۔ مشن بھگیرتا کے تحت ریاست کے 95 فیصد مکانات کو صاف پینے کا پانی سربراہ کیا جارہا ہے۔ حکومت نے فلاحی اسکیمات کے تحت غریبوں، ضعیف العمر افراد، بیواؤں اور معذورین کیلئے وظیفہ کی اجرائی کا ذکر کیا۔ حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ ریاست کے تمام طبقات کی فلاحی اسکیمات پر موثر عمل کیا جارہا ہے۔