تلنگانہ تحریک میں ملازمین کا اہم رول، ٹی آر ایس کے عوامی نمائندوں سے ہڑتال کی تائید کا مطالبہ
حیدرآباد۔ 18 اکٹوبر (سیاست نیوز) اے آئی سی سی سکریٹری اور سابق رکن پارلیمنٹ مدھو یاشکی گوڑ نے کہا کہ آر ٹی سی ملازمین کی بد دعا کے سی آر خاندان کو لگے گی اور وہ بچ نہیں پائیں گے۔ گاندھی بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے مدھو یاشگی گوڑ نے کہا کہ آر ٹی سی ملازمین اپنے جائز مطالبات کے لیے ہڑتال کررہے ہیں لیکن کے سی آر کا رویہ غیر انسانی ہے۔ انہیں آر ٹی سی ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی اور ملازمین کے خاندانوں کی کوئی فکر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ آر ٹی سی ملازمین تلنگانہ کا اثاثہ ہیں لیکن کے سی آر انہیں نظرانداز کررہے ہیں۔ علیحدہ تلنگانہ ریاست کے حصول میں آر ٹی سی ملازمین کا اہم رول رہا۔ کے سی آر نے تحریک کے دوران آر ٹی سی ملازمین کو سرکاری ملازمین کے مساوی درجہ دینے اور آر ٹی سی کو حکومت میں ضم کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن اقتدار ملتے ہی عمرانہ روش اختیار کرلی۔ انہوں نے کہا کہ پڑوسی ریاست آندھراپردیش میں آر ٹی سی کو حکومت میں ضم کیا گیا ہے لیکن کے سی آر انکار کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت مسائل کی یکسوئی میں دلچسپی لے تو ملازمین کو احتجاج کی نوبت نہیں آئے گی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ عوام کو گمراہ کرنے کے لیے دونوں ریاست کے چیف منسٹر متحد ہوچکے ہیں۔ ہڑتال کے سبب 50 ہزار ملازمین نہیں بلکہ ہر ملازم کے افراد خاندان کے ساتھ جملہ 5 کروڑ عوام بھی متاثر ہوئے ہیں۔ کے سی آر کے فیصلے لیبر ایکٹ کے برخلاف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آر ٹی سی کے نقصانات کی پابجائی کے سلسلہ میں حکومت کو اقدامات کرنی چاہئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کے سی آر آر ٹی سی کے اثاثہ جات کو اپنے ارکان خاندان میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے تلنگانہ این جی اوز اور تلنگانہ گزیٹیڈ آفیسرس اسوسی ایشن سے اپیل کی کہ وہ آر ٹی سی ملازمین کے ہڑتال کی تائید کریں۔ انہوں نے برسر اقتدار پارٹی کے ارکان اسمبلی وکونسل سے کہا کہ وہ اپنے عہدوں کے تحفظ کے لیے آر ٹی سی ملازمین کو دھوکہ نہ دیں۔ انہوں نے تلنگانہ بند کی تائید کی اور کہا کہ سیاسی اور سماجی تنظیموں کے علاوہ عوام کو بند میں حصہ لینا چاہئے۔ انہوں نے حکومت سے کہا کہ وہ مقدمات اور گرفتاریوں کے ذریعہ ہراسانی کا سلسلہ بند کریں۔ مدھو یاشکی گوڑ کے مطابق آر ٹی سی کے اثاثہ جات حاصل کرنے کے لیے دونوں ریاستوں کے چیف منسٹر متحد ہوچکے ہیں۔ کل تک جگن کو تلنگانہ کا مخالف کہا جاتا رہا لیکن آج کے سی آر اپنے مفادات کے لیے جگن سے دوستی کرچکے ہیں۔