کے سی آر ریاست کے چیف منسٹر سے زیادہ ایراولی کے سرپنچ: ریونت ریڈی

   

تلنگانہ میں صرف کے سی آر خاندان کو فائدہ، وزیر برقی بازاری روڈی سے کم نہیں
حیدرآباد۔ یکم جون (سیاست نیوز) کانگریس رکن پارلیمنٹ ریونت ریڈی نے الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو ریاست کے چیف منسٹر نہیں بلکہ ایراولی کے سرپنچ کی حیثیت سے کام کررہے ہیں۔ تلنگانہ ریاست میں صرف کے سی آر خاندان کو فائدہ ہوا ہے جبکہ عوام کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ چیف منسٹر اور ان کے افراد خاندان کو جو عہدے دیئے گئے ہیں وہ ان کی تفصیلات بہت جلد جاری کریں گے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ چھ برسوں میں تلنگانہ عوام سے کیا گیا ایک بھی وعدہ پورا نہیں ہوا ہے۔ چیف منسٹر اور ریاستی وزراء جھوٹے اعلانات کے ذریعہ عوام کو گمراہ کررہے ہیں۔ ریونت ریڈی نے کل نلگنڈہ میں ریاستی وزیر جگدیشور ریڈی کی جانب سے اتم کمار ریڈی کے خلاف شخصی ریمارکس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جگدیش ریڈی نے ایک روڈی کی طرح بازاری زبان استعمال کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل پر سوال کرنے سے بوکھلاہٹ کا شکار ہوکر جگدیش ریڈی نے اتم کمار ریڈی کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے جگدیش ریڈی کو انتباہ دیا کہ وہ اپنی زبان قابو میں رکھیں ورنہ وہ ان کی زبان میں جواب دینے پر مجبور ہوجائیں گے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ جگدیش ریڈی کو شراب میں سوڑا ملانے کے علاوہ کچھ نہیں آتا۔ انہیں وزارت کس طرح ملی ہر کوئی اچھی طرح جانتا ہے۔ تلنگانہ تحریک روزگار، پانی اور وسائل کے نام پر چلائی گئی تھی لیکن ریاست کی تشکیل کے بعد ان شعبوں میں عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ کے سی آر نے جگن موہن ریڈی سے ملی بھگت کرلی ہے اور کرشنا کے پانی کے حصول پر خاموش ہیں۔ تلنگانہ تحریک میں اہم رول ادا کرنے والے کودنڈارام کو نظرانداز کردیا گیا۔ شہیدان تلنگانہ کے خاندان آج تک حکومت کی امداد کے منتظر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ تشکیل کے بعد کے سی آر اور ان کے افراد خاندان کی بھلائی سب کچھ ہوگئی اور عوام فراموش کردیئے گئے۔ آبپاشی پراجیکٹس میں بڑے پیمانے پر دھاندلیاں کی گئیں اور کمیشن حاصل کیا جارہا ہے۔ حیدرآباد کی ترقی متاثر ہوچکی ہے اور بیروزگار نوجوانوں کو مہنگائی بھتہ آج تک جاری نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دختر کویتا کو عوام نے مسترد کردیا تھا اس کے باوجود کے سی آر نے بے شرمی کے ساتھ کویتا کو قانون ساز کونسل کے لیے نامزد کیا ہے۔ کانگریس نے کے سی آر خاندان کی بھلائی کے لیے تلنگانہ نہیں دیا تھا۔