دن دہاڑے جمہوریت کا قتل، انسداد انحراف قانون پر مباحث کے لیے چیف منسٹر کو چیلنج
حیدرآباد۔ 13 جون (سیاست نیوز) سی ایل پی لیڈر ملو بھٹی وکرامارکا نے الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر کے سی آر سیاسی دہشت گرد اور مافیا کی طرح جمہوریت کا قتل کررہے ہیں۔ کانگریس کے 12 ارکان اسمبلی کے ٹی آر ایس میں انضمام کے ذریعہ دن دہاڑے جمہوریت کا قتل کیا گیا۔ کے سی آر سیاسی دہشت گرد اور مافیا کی طرح خفیہ مقام سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کے سی آر کو چیلنج کیا کہ وہ انحراف کے مسئلہ پر لب کشائی کریں۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بھٹی وکرامارکا نے کے سی آر پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے تحفظ کے لیے وہ اور کانگریس پارٹی اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال احتجاج کا خاتمہ نہیں بلکہ ابھی آغاز ہے۔ جمہوریت کے تحفظ تک اپنی جدوجہد جاری رکھنے کا عزم کرتے ہوئے بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ کے سی آر نے سازش کے ذریعہ اپوزیشن کو کمزور کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ کے سی آر کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے میدان میں آئے۔ انہوں نے کہا کہ پرگتی بھون سے کے سی آر نے انحراف کی حوصلہ افزائی کی۔ کانگریس کے ارکان اسمبلی کو پرگتی بھون بلاکر ملاقات کی گئی۔ انہوں نے کے سی آر کو انسداد انحراف قانون پر مباحث کا چیلنج کیا اور کہا کہ انہوں نے حکومت سے جو سوالات کیے ہیں اس کا جواب چیف منسٹر کو دینا چاہئے۔ بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ اگر انحراف کی روایت کو روکا نہیں گیا تو عوام کے ووٹ کی اہمیت ختم ہوجائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ بہت جلد سیاسی ماہرین اور مبصرین کے ساتھ رائونڈ ٹیبل اجلاس طلب کرتے ہوئے جمہوریت بچائو تحریک کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔ ملک بھر سے دانشوروں کو مدعو کیا جائے گا۔ منحرف ارکان کے اس بیان کو مضحکہ خیز قرار دیا کہ کانگریس قیادت سے اختلاف کے نتیجہ میں وہ ٹی آر ایس میں شامل ہورہے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر کانگریس کی قیادت ٹھیک نہیں تھی تو پھر اس قیادت سے بی فارم کیوں حاصل کیا گیا۔ کانگریس سے منتخب ہونے کے بعد اگر اخلاقی جرأت ہوتی تو استعفیٰ دے کر ٹی آر ایس میں شامل ہوتے۔ انہوں نے تمام منحرف ارکان کو چیلنج کیا کہ وہ مستعفی ہوکر دکھائیں۔ تاکہ اندازہ ہو کہ عوام کس کے ساتھ ہیں۔ بھٹی وکرامارکا نے بھوک ہڑتال کی تائید کرنے والی پارٹیوں اور قائدین سے اظہار تشکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں سیاسی دہشت گرد اور مافیا جمہوریت پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ کے سی آر اس مافیا کو آگے رکھ کر کام کررہے ہیں۔ دستور کے 10 ویں شیڈول کے مطابق منحرف ارکان کو رکنیت سے نااہل قرار دیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کے سی آر کو چیلنج کیا کہ وہ انحراف قانون پر جہاں چاہے مباحث کے لیے تیار ہوجائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر انحراف کی سیاست پر روک نہیں لگائی گئی تو مستقبل میں جمہوریت کو خطرہ لاحق ہوگا۔
